سوال: کیا یوٹویوب مونیٹائیزیشن کے ذریعے کمائی کرنا جائز ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
واضح رہے کہ یوٹیوب کی جو انکم ہوتی ہے وہ اس پر چلنے والے اشتہارات کے ذریعے آتی ہے، اور یہ اشتہارات ان ویڈیوز پر آتے ہیں جو monetized ہوتی ہیں۔ نیز جو اشتہارات چلائے جاتے ہیں اگر وہ جائز اشیاء(شیمپو، جوتوں ، پرفیوم،کھناے کی اشیاء، تعلیم) کی Advertising کے لیے بھی ہوں تو بھی اس میں جو محظورات موجود ہوتے ہیں۔ 1- بے پردہ خواتین کی تصاویر/ویڈیو 2-موسیقی
جس صارف کی ویڈیوز پر اشتہارات چل رہے ہوتے ہیں انکو صرف اتنا ہی معلوم ہوتا ہے کہ انکی وڈیو پر کس کیٹیگری(category) کے اشتہار چلیں گے، یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس کس کمپنی کے اور کس کس چیز کے اشتہار چلیں گے، جس میں خاصا ابہام ہے محض کٹیگری کےمعلوم ہونا کلی طور پر ابہام کو ختم نہیں کرتا نتیجتاً ایسی فلٹریشن کے بعد بھی غیر شرعی امور کا سامنا ممکن ہے۔
اس تفصیل کے بعد عرض ہے کہ چونکہ اشتہارات میں غیر شرعی امور موجود ہوتے ہیں،اب اس بات میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ یوٹیوب کے ساتھ یہ معاملہ موسیقی، خواتین کا بے پردہ ہونا، فحاشی جیسے بڑے گناہوں کے فروغ کا باعث ہے۔
انہی گناہوں کی وجہ سے یہ مونیٹائیزیشن جائز نہیں کیونکہ یہ گناہ/ فحاشی پر تعاون ہے، اور قرآن مجید میں رب العالمین نے ایک اصول بیان کیا ہے کہ برائی اور گناہ پر کسی اور کی معاونت/مدد کرنا حرام ہے، فرمان الہی:
وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
یعنی: گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو (سورۃ المائدۃ: 02)
اور شریعت مطہرہ میں جو لوگ فحاشی کو پھیلاتے ہیں انکے لیے شديد وعید وارد ہوئی ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ
یعنی: جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں (سورۃ النور: 19)
ایک اشکال: یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر کسی کو گھر کرائے پر دیا جائے اور وہ اس میں کوئٰی غلط کام کرتا ہے تو کرایہ حرام نہیں ہوگا۔اسی طرح جب ویڈیو اپلوڈ کرنے والا اپنی جگہ ایڈ چلانے والے کو دے رہا ہے اور اس کا اصل مقصد اپنے سامان کی ترویج ہے تو پھر یہ کمائی حرام کیوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوٹیوب کی کمائی اشتہارات سے ہوتی ہے نہ کہ سامان کے پرافٹ سے۔اور اشتہارات غالب طور پر حرام کام پر مشتمل ہوتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کوئی شخص شیمپو بیچتا ہو ، اور وہ سپیکر والے کے پاس آئے کہ مجھے سپیکر کرائے پر چاہیے اس پر موسیقی چلاؤں گا ، تو ایسی صورت میں سپیکر والے کی اجرت جائز نہیں ہوگی کیونکہ اس کی اجرت گانے چلانے کے بدلے مل رہی ہے نہ کہ شیمپو کی فروخت سے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر