بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
والدین کے کہنے پر بیوی کو طلاق

والدین کے کہنے پر بیوی کو طلاق

سوال: کیا ماں باپ کے کہنے پر بیوی کو طلاق دی جاسکتی ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ والدین کی اطاعت شریعت میں نہایت اہم اور واجب امور میں سے ہے، لیکن یہ اطاعت صرف معروف اور جائز امور میں ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

﴿ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ﴾(صحیح بخاری:7257)

یعنی: اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔

اگر بیوی سیدھی سیرت اور دین دار ہو اور  اس سے کوئی اولاد بھی ہو ،پھر اگر والدین (یا ان میں سے کسی نے) اسے ذاتی خواہش یا ذاتی مقصد سے  اس کو طلاق دینے  کا حکم دیا ہو تو اس پر اپنی بیوی کو طلاق دینا واجب نہیں ہے اور نہ ہی اس پر اپنے والدین کی اطاعت واجب ہے۔ لیکن  اگر والدین کسی معقول، شرعی اور حقیقی وجہ کی بنا پر طلاق کا مطالبہ کریں، مثلاً:عورت کے اخلاق و کردار میں خرابی ہو، دین یا عزت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، یا واقعی بیٹے کی زندگی شدید ضرر اور فساد کا شکار ہو، تو ایسی صورت میں والدین کی بات پر غور کرنا چاہیے، اور اگر واقعی مصلحت ہو تو طلاق دی جاسکتی ہے۔

تنبیہ:یہ ایک عمومی شرعی حکم ہے۔ اگر کسی شخص کو عملاً ایسا مسئلہ پیش آئے تو وہ مکمل تفصیلات کے ساتھ کسی معتبر مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کرے، تاکہ مخصوص صورتِ حال کے مطابق درست رہنمائی دی جاسکے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

 

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔