سوال: یومِ عرفہ کا روزہ کس دن رکھا جائے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
یومِ عرفہ سے مراد نو ذی الحجہ ہے، اس دن کا روزہ ایک مستقل عبادت ہے اور وقوف عرفہ ایک مستقل عبادت ہےجو کہ حجاج کے ساتھ خاص ہے، ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق کسی صحیح دلیل میں وارد نہیں ہے، نیز نبیﷺ کا فرمان ہے:[صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ](صحیح بخاری:1909)
یعنی: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو۔
اس حدیث میں نبیﷺ نے روزوں کی ابتدائی اور اختتام کو چاند کے دیکھنے کے ساتھ مربوط کیا ہے نہ کہ کسی خاص مکان کے ساتھ، لہذا نو ذی الحجہ کے روزے کو وقوف عرفہ کے ساتھ خاص کردینا درست نہیں ہے اور نہ اس پر کوئی شرعی دلیل ہے۔
چند احباب کی طرف سے یہ اشکال آتا ہےموجودہ تیز تر وسائلِ نقل و حرکت اور ذرائع ابلاغ کے پیشِ نظر ، حجاجِ کرام کے میدانِ عرفات میں ہونے کی خبر لمحہ بہ لمحہ دنیا بھر میں پہنچ رہی ہوتی ہے ، لہذا یومِ عرفہ کا روزہ بھی اسی دن رکھا جائے جب حجاج کرام ، عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔
اگر یہ اصول درست مانا جائے اور نو ذی الحجہ کے روزے کو وقوف عرفہ کے ساتھ خاص کردیا جائے تو دنیا میں چند ممالک ایسے ہیں جن کا چاند سعودیہ عرب سے پہلے نظر آتا ہے،مثلاً لیبیا تیونس وغیرہ تو ان ممالک والوں کو اس اصول کے مطابق ان کو عرفہ کا روزہ اپنے عید کے دن رکھنا ہوگا، جبکہ عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے۔
نیز اگر وقوف عرفہ اور نوذی الحجہ کے روزے کا باہمی کوئی ربط ہوتا تو جو حجاج عرفہ میں وقوف کرتے ہیں ان کو روزہ رکھنے کی ترغیب دی جاتی ، جبکہ نبیﷺ کے تعلق سے ام الفضل r بیان کرتی ہیں:[ أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، «فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَهُ](صحیح بخاری:5636)
یعنی: لوگوں کو عرفہ کے دن نبی کریم ﷺکے روزے کے متعلق شک ہوا تو نبیﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک کٹورہ پیش کیا گیا اور آپ نے اسے نوش فرمایا ۔
مزید یہ کہ اگر اس اصول کو صحیح مان لیا جائے تو تیرہ سو سال سال تک امت نے بغیر وقوف عرفہ کے موافقت کا خیال رکھتے ہوئے روزے رکھے تو ان کے روزے ضائع شمار کیے جائیں گے؟ اور ان کی اس عبادت کو ضائع سمجھا جائے گا؟
خلاصہ کلام: شرعی اور عقلی دلائل کی روشنی میں یہی بات واضح ہوتی ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ نو ذی الحجہ کو اپنے ملک کی رویت کا اعتبار کرتے ہوئے رکھا جائے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی