بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]

تعارف

ہمارے بارے میں:

فتویٰ کیاہے؟

فتویٰ ،شرعی رہنمائی حاصل کرنے والےکسی فرد کوشریعت  کا حکم بتانے کا نام ہے، فتویٰ انسانی زندگی کے کسی ایک پہلو کے ساتھ خاص نہیں ہوتا ، بلکہ انسان کی زندگی کے ہر مرحلےسے ایک نگران اورمصلح کا تعلق رکھتاہے ، انسان کے عقائد و نظریات ہوں ، اس کی ذاتی زندگی کے نجی پہلو ہوں ، اس کی خاندانی زندگی کے مختلف مراحل ہوں ، اس کی معاشرتی زندگی کے مختلف مظاہر ہوں ، اس کی معاشی زندگی کی گوناگوں سرگرمیاں ہوں ، اس کی زندگی کے قانونی پہلوہوں ، یا اس کی اخلاقی قدریں ہوں ، حتی کہ ملک چلانے کے اصول اور بین الاقوامی تعلقات کے نشیب وفراز، صلح اور جنگ سے متعلق ہدایات بھی فتویٰ کے حدود سے باہر نہیں۔ فتویٰ کا اجراء انتہائی حساس معاملہ اور  بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ بلا شبہ یہ ذمے داری  اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نیابت میں رہتے ہوئے سر انجام دیا جاتی ہے. اس لیے ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے فتوے کا مصدر اور ماخذ صرف کتاب وسنت ہو،اس کے علاوہ کوئی تیسری  چیز مصدرِ فتویٰ نہیں ہونی چاہیے۔نیز اس میں  منہجِ فتویٰ بھی ائمہ سلف کے مطابق ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ فتویٰ دیتے وقت ذاتی رائے کے بجائے فہمِ سلف کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے تاکہ ’سبیل المؤمنین‘ سے انحراف نہ ہو۔

مجلس الافتاء ، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کم و بیش گزشتہ 15 سالوں سے اس میدان میں  مصروف ِ عمل ہے،دنیا بھر سے لوگ بذریعہ ویب سائٹ اور ای میل اور ادارے کے آفیشل واٹس ایپ نمبر کے ذریعے سوال کرتے ہیں اور انہیں قرآن و سنت کی روشنی میں فتوی جاری کیا جاتا ہے۔ جس میں  ایک مسلمان کی زندگی سے تعلق رکھنے والے  ہر مسئلے پر  متعلق مسائل پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔

دار الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر میں فتویٰ کے اجراء کا طریقہ کار
                 دار الافتاء میں سوال موصول ہونے سے لے کر فتویٰ جاری کیے جانے تک کا مرحلہ چار مراحل پر مشتمل ہے:

  1. سائل کا استفتاء/سوال جمع کرانا: سب سے پہلے مرحلے میں سائل اپنا سوال تحریری شکل  میں اپنا سوال دار الافتاء میں جمع کراتا ہے، جس میں سائل سے مجلس الافتاء کے اراکین ملاقات کرے ہیں اور حسبِ ضرورت کچھ سوالات پوچھتے ہیں، جن کو سوال نامے میں ’’تنقیح مسئلہ‘‘   کے  عنوان کے تحت ذکر کیا جاتا ہے۔
  2. مفتی تک سوال نامہ ارسال کرنا:  اس کے سوال نامہ  مفتی  تک پہنچایا جاتا ہے، جس پر مفتی  سوال اور تنقیح مسئلہ کو سامنے رکھتے ہوئے  جواب تحریر کرتا ہے۔
  3. تحریر کردہ جواب کی تصحیح: جواب کی تحریر کے بعد جواب   مفتی کے پاس بھیجا جاتا ہے، جس پر وہ نظرِثانی کرتے ہیں، اور اس میں موجود غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں، نیز تصحیح کے دوسرے مرحلے میں جواب مفتی صاحب کے پاس ارسال کیا  جاتا ہے جس میں وہ بھی جواب  پر نظر ثانی کرتے ہیں۔
  4. حتمی تصدیق: تصحیح کے بعد جواب آفیشل لیٹر ہیڈ پر پرنٹ کرکے مجلس الافتاء کے پاس بھیجا جاتا ہے جس میں  مختص مفتی صاحبان   اپنے دستخط کرتے ہیں اور بعدازاں اس پر ادارے کی سٹیمپ لگائی جاتی ہے۔

ان مراحل سے گزرنے کے بعد فتویٰ سائل کے سپرد کردیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ  مجلس ہذا کے زیر اہتمام آن لائن فتوی کی سہولت بھی موجد ہے، جس میں سائل بذریعہ واٹس ایپ یا ای میل اپنا سوال بھیجتے ہیں اور ان کو جواباً میسیج کی صورت میں  جواب دے دیا جاتا ہے۔ مجلس الافتاء مین ادارے سے منسلک چند علماء کو شامل کیا گیا ہے، جن میں  تمام  مفتیان ا اپنے مخصوص موضوع میں ماہر ہیں۔

مجلس الافتاء کے اراکین:

واضح رہے کہ مجلس الافتاء براہ راست المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کی زیر نگرانی قائم ہے، جو کہ  نو (9)   بنیادی اراکین پر مشتمل ہے:

  1. فضیلۃ الشیخ مفتی حافظ محمد سلیم صاحب  حفظہ اللہ
  2. فضیلۃ الشیخ عثمان صفدرصاحب  حفظہ اللہ
  3. فضیلۃ الشیخ  عبد اللہ شمیم  حفظہ اللہ
  4. فضیلۃ الشیخ خالد حسین گورایہ  حفظہ اللہ
  5. فضیلۃ الشیخ حماد امین چاؤلہ  حفظہ اللہ
  6. فضیلۃ الشیخ  ڈاکٹڑ فراز الحق  حفظہ اللہ
  7. فضیلۃ الشیخ  ڈاکٹڑ عبید الرحمان رشید حفظہ اللہ
  8. فضیلۃ الشیخ یونس اثری صاحب  حفظہ اللہ