سوال:وضوء کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
وضوء جن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے ان کو نواقض الوضوء کہا جاتا ہے، جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔قضائے حاجت کرنے سے، چنانچہ حدیث نبویﷺ ہے:
[ أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَاتَّبَعَهُ المُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ]
یعنی: نبیﷺ رفع حاجت کے لیے تشریف لے کر گئے تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ پانی کا ایک برتن لے کر آپ کے پیچھے گئے، جب آپ قضاء حاجت سے فارغ ہو گئے تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ( نبیﷺ کو وضو کراتے ہوئے ) نبیﷺ( کے اعضاء مبارکہ ) پر پانی ڈالا۔(صحیح بخاری:203)
۲۔ہوا خارج ہوجانے کا اگر یقین ہو تووضوء ٹوٹ جاتا ہے،چنانچہ نبیﷺ کے پاس ایک صحابی آئے
[شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الرَّجُلُ الَّذِي يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلاَةِ؟ فَقَالَ: «لاَ يَنْفَتِلْ – أَوْ لاَ يَنْصَرِفْ – حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا]
یعنی: رسول کریم ﷺ سے شکایت کی کہ ایک شخص ہے جسے یہ خیال ہوتا ہے کہ نماز میں کوئی چیز ( یعنی ہوا نکلتی ) معلوم ہوئی ہے، نبیﷺ نے فرمایا کہ ( نماز سے ) نہ پھرے یا نہ مڑے(یعنی نماز نہ توڑے) جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے(یعنی یقین نہ ہوجائے)۔(صحیح بخاری:137)
۳۔ اگر کسی کی مذی(ایسا لیس دار پانی جو بوقت شہوت شرمگاہ سے بغیر قوت کے نکلتا ہو) نکل جائے تو اس پر استنجاء اور وضوء لازم ہوجاتا ہے،چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے مذی بکثرت آتی تھی، چونکہ میرے گھر میں نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی ( حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا ) تھیں،اس لیے میں نے ایک شخص ( مقداد بن اسود اپنے شاگرد ) سے کہا کہ وہ آپ ﷺ سے اس کے متعلق مسئلہ معلوم کریں انھوں نے پوچھا تو آپ ﷺنے فرمایا :
[ تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ]
وضو کر اور شرمگاہ کو دھو ( یہی کافی ہے)۔(صحیح بخاری:269)
۴۔استحاضہ(ایسی بیماری جس میں خواتین کو حیض ونفاس کے علاوہ بھی خون آتا ہو) اس میں ہر نماز کے لیے وضوء کرنا ضروری ہے، چنانچہ جب سیدہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نبیﷺ کے پاس آئیں اور فرمایا:
[ يَا رَسُولَ اللَّهِﷺ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «لاَ، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي» – قَالَ: وَقَالَ أَبِي: – «ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ، حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الوَقْتُ»]
یعنی:اے اللہ کے رسولﷺ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے۔ اس لیے میں پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ نبیﷺ نے فرمایا نہیں، یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے۔ تو جب تم کو حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے ( بدن اور کپڑے ) سے خون کو دھو کر نماز پڑھ لو۔نیز نبیﷺ نے فرمایا کہ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہی ( حیض کا ) وقت پھر آ جائے۔(صحیح بخاری:228)
۵۔شرمگاہ کو بغیر کسی حائل کے چھولینے سے بھی وضوء ٹوٹ جاتا ہے،چنانچہ نبیﷺ کا فرمان:
[ إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ]
یعنی:’’جب کوئی اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو وہ وضو کرے۔‘‘(سنن ابن ماجہ479)
۶۔اگر کسی کو گہری نیند آجائے جو لیٹنے یا ٹیک لگانے کی وجہ سے ہو تو اس پر بھی وضوء ٹوٹ جاتا ہے،چنانچہ نبیﷺ کا فرمان:[ مَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ] یعنی: جو سو جائے وہ وضو کرے ۔ “(سنن ابی داؤد:203)
خلاصہ کلام: مذکورہ چیزوں میں سے کسی ایک صورت کے پیش آنے ہر وضوء لازم ہوجاتا ہے، نیز جن چیزوں (حیض و نفاس،احتلام،ہم بستری)سے غسل واجب ہوجاتا ہے ان سے وضوء بھی واجب ہوجاتا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی