بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
ہوٹل میں کسٹمر کو بتائے بغیر کمیشن لینا

ہوٹل میں کسٹمر کو بتائے بغیر کمیشن لینا

سوال:   میں جس ہوٹل میں کام کرتا ہوں اس میں کسٹمر کے بل پر دس فیصد چارجز لگائے جاتے ہیں، جو کہ ہوٹل انتظامیہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہی ہماری اجرت ہوتی ہے، بعض کسٹمر وہ خوشی خوشی دیتے ہیں اور بعض اس میں ناراض ہوتے ہیں، تو کیا ہمارا  بحیثیت ویٹر ان سے وہ رقم لینا جائز ہوگا؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ چونکہ ریسٹورنٹ کی جانب سے بل میں سروس چارج باقاعدہ پالیسی کے طور پر شامل کیا جاتا ہے، اور یہ رقم عملے کو ان کی خدمت، محنت اور وقت کے عوض اجرت کے طور پر دی جاتی ہے، اس لیے اصولاً یہ کمائی شرعاً جائز ہے، جیسا کہ  حدیث نبویﷺ ہے:

﴿قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: ” عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ”﴾(مسند احمد :17265)

یعنی:نبیﷺ سے پوچھا گیا  کہ  سب سے افضل اور عمدہ کمائی کون سی ہے؟نبیﷺ نے فرمایا: ا انسان کے ہاتھ کی کمائی اور ہر مقبول تجارت۔

البتہ جہاں تک بعض گاہکوں کی ناگواری یا اعتراض  کا تعلق ہے تو وہ دراصل ریسٹورنٹ کی پالیسی کی وجہ سے ہے، نہ کہ سروس فراہم کرنے والے عملے کی کسی خیانت یا دھوکے کی بنا پر، لہٰذا اس اعتراض کی وجہ سے عملے کی اجرت ناجائز نہیں ہوتی۔

البتہ ریسٹورنٹ کے مالک پر لازم ہے کہ وہ سروس چارج کے بارے میں واضح اطلاع نمایاں جگہ پر درج کرے، تاکہ آنے والا ہر گاہک پہلے سے اس بات سے باخبر ہو اور کسی قسم کا ابہام یا ناگواری پیدا نہ ہو۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔