سوال: سود کی رقم ، رشوت اورٹیکس میں دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
سود کی حرمت کئی واضح شرعی دلائل سے واضح ہے، چناچہ ارشاد باری تعالی ہے:
[ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۔ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ]
یعنی: "اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ اور اگر تم نے سود نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔” (سورۃ البقرۃ:278،279)
جب سود لینا ہی حرام ہے تو اس رقم کو آگے کسی کام میں صرف کرنا بالأولی حرام قرار پائے گا، کیونکہ شریعت نےجس چیز کو حرام قرار دیا ہے، اس چیز کی کمائی اور فائدہ اٹھانے کو بھی حرام قرار دیا ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[ إِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ]
یعنی:”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کر دیتا ہے ، تو اس کی قیمت بھی حرام کر دیتا ہے ۔”
نیز شریعت مطہرہ کا ایک قاعدہ ہے
’’ما حرم اخذہ حرم اعطاؤہ‘‘
یعنی جس چیز کا لینا انسان کے لیے جائز نہیں ہے اس کا کسی اور کو دینا بھی انسان کے لیے جائز نہیں ہے۔
خلاصہ کلام: سود کی رقم سے ٹیکس اور رشوت کی ادائیگی درست نہیں ہے۔
ھذا ماعندی واللہ تعالی اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی