سوال: حالتِ اعتکاف میں اگر اعتکاف ہوجائے تو کیا اعتکاف فاسد ہوجائے گا ؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
حالتِ اعتکاف میں احتلام ہوجانے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ احتلام انسان کے اختیار کے بغیر ہوتا ہے، جبکہ شریعت نے غیر اختیاری امور پر مؤاخذہ نہیں رکھا۔ البتہ غسل واجب ہوجاتا ہے، اس لیے فوراً غسل کرنا ضروری ہے، اور اگر غسل کے لیے مسجد سے باہر نکلنا پڑے تو بقدرِ ضرورت نکلنا جائز ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ اعتکاف کو فاسد کرنے والی چیز وہ ہوتی ہے جو اعتکاف کے منافی ہو اور انسان کے اختیار سے واقع ہو، جبکہ احتلام نہ اختیاری ہے اور نہ ہی مباشرت کے حکم میں داخل ہے۔ اسی لیے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ محتلم ہوجانے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا۔نیز نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
﴿ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ… وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ﴾(سنن ابی داؤد:4403)
تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے… اور سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے۔
لہٰذا نیند میں ہونے والا احتلام قابلِ مؤاخذہ نہیں، البتہ جنابت کی حالت ختم کرنے کے لیے غسل کرنا واجب ہوگا۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی