بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
موزوں پر مسح کی شرائط

موزوں پر مسح کی شرائط

سوال: موزوں پر  مسح کا طریقہ کیا ہے نیز  موزوں پر مسح کن شروط کے ساتھ جائز ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

موزوں پر مسح کرنے کا   طریقہ صحابی رسول جناب مغیرہ بن شعبہرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

[ توضأﷺ ومسح على الخفين، فوضع يده اليمنى على خفه الأيمن ووضع يده اليسرى على خفه الأيسر، ثم مسح أعلاهما مسحة واحدة]

یعنی: میں نے دیکھا کہ رسولﷺ نے وضوء کیا اور موزوں پر مسح کیا، نبیﷺ نے(ہاتھ گیلا کرکے) اپنا دائیاں ہاتھ دائیں پاؤں کے اوپری حصے پر اور بائیاں پاؤں بائیں پاؤں کے حصے پر رکھا، اور ایک مرتبہ مسح کیا۔(مصنف ابن ابی شیبۃ:1968)

جہاں تک موزوں پر مسح کی شروط کا تعلق ہے تو موزوں پر مسح کرنے کی چند شروط ہیں:

۱۔موزے حالت وضوء میں پہنے گئے ہوں

۲۔موزے پاک ہوں

۳۔مسح وقت مقرر(پہلے مسح کے بعد مقیم کے لیے ایک دن(مسافر کے لیے تین دن)کے اندر اندر کیا جائے۔

۴۔مسح صرف وضوء ٹوٹنے کی صورت میں ہی جاسکتا ہے، اگر کسی پر غسل فرض ہوجائے تو وہ غسل میں مسح نہیں کرسکتا۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔