سوال: اگر کوئی شخص اکیلا نماز پڑھے گا تو کیا وہ اقامت کہے گا یا نہیں؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ اگر کوئی مرد اکیلا فرض نماز پڑھ رہا ہو تو اقامت کہنا ضروری نہیں ہے، البتہ مستحب ہے۔اگر گھر میں اکیلے نماز پڑھ رہے ہیں تو محلے کی اذان واقامت کافی ہوتی ہے۔جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿ يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِجَبَلٍ، يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ، وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، يَخَافُ مِنِّي، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ﴾(صحیح داؤد:1203)
یعنی: تمہارا رب بکریوں کے اس چرواہے پر تعجب کرتا ( خوش ہوتا ) ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر ( اکیلا ہوتے ہوئے ) نماز کے لیے اذان کہتا اور نماز پڑھتا ہے ۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو جو نماز کے لیے اذان اور اقامت کہتا ہے ( اور ) مجھ ہی سے ڈرتا ہے ۔ میں نے اپنے اس بندے کو بخش دیا ہے اور جنت میں داخل کر دیا ہے ۔
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اکیلا انسان اگر نماز پڑھتے ہوئے اقامت کہنا چاہے تو کہہ سکتا ہے، البتہ ضروری نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی