سوال: مختلف آن لائن گیمز میں کوائنز ملتے ہیں، اور جیتنے پر ان میں مستقل اضافہ ہوتا رہتا ہے، کیا ان کوائنز کو حقیقی کرنسی سے بیچنا جائز ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ دینِ اسلام نے ان کھیلوں کو کھیلنے کی ترغیب دلائی ہے جس میں کوئی دینی، ذہنی اور جسمانی فائدہ ہو، البتہ اس تعلق سے کچھ ضوابط مقرر کیے ہیں، جن کی پاسداری کرتے ہوئے کھیل کود کو اپنایا جاسکتا ہے(مزید تفصیل کے لیے دیکھیے فتویٰ نمبر۔۔۔۔) ۔موجودہ آن لائن گیمز میں کئی ایسے گیمز ہیں جن میں کئی شرعی قباحتیں موجود ہیں:
- ایسے كھيل جن ميں جادواور جادوگروں کو بڑھا چڑھا كر پيش كيا جاتا ہے۔
- ایسے کھیل جن میں تاش یا لڈو کھیلا جاتا ہے۔
- ایسے كھيل جو كفار كو بڑھا چڑھا كر پيش كرتے ہيں اور اس ميں ذہنی تربيت ایسی کى جاتى ہے جس میں کفار کی تعظیم دل میں پیدا ہوجاتی ہے ۔
- ایسے كھيل جو تصاوير اور ستر والى جگہوں سے بےپردہ تصاوير پر مشتمل ہوتے ہيں۔
- ایسے كھيل وہ جوے اور قمار بازى كى فكر اور سوچ پر مشتمل ہوتے ہيں.
- موسیقی پر مشتمل کھیل۔
- ایسے کھیلوں سے جرائم و دہشت گردى كى تربيت دينا، اور قتل و غارت كو آسان كر دكھانا، اور جانوں كو قتل كرنا، جيسےكہ مشہور كھيل PUBG,Call of Duty,FreeFire ميں ہے.
خلاصہ کلام: اگر آن لائن گیمز موجودہ شرعی قباحتوں سے خالی ہوں تو ان کے کوائنز کو بیچنا جائز ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے، کیونکہ یہ منفعت مباحۃ ہے اور بیچے جانی والے چیز کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کا فائدہ مباح ہو۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی