بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
قربانی میں اعتبار وکیل کے وقت کا ہوگا یا اصل مالک(موکل) کا

قربانی میں اعتبار وکیل کے وقت کا ہوگا یا اصل مالک(موکل) کا

سوال: اگر کوئی شخص اپنے ملک سے کسی دوسرے شہر یا ملک میں قربانی کے لیے کسی کو وکیل بنائے، اور وکیل اپنے مقام پر نمازِ عید کے بعد قربانی ذبح کردے، جبکہ موکل کے شہر میں ابھی عید کی نماز نہ ہوئی ہو، تو کیا ایسی قربانی درست ہوگی؟ وقتِ قربانی کے اعتبار سے وکیل معتبر ہوگا یا اصل موکل؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

قربانی میں ذبح کے وقت کے اعتبار سے وکیل کا مقام معتبر ہوگا، کیونکہ وکیل اپنے موکل کی طرف سے قائم مقام ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر وکیل نے اپنی جگہ عید کی نماز کے بعد قربانی ذبح کرلی تو قربانی درست ہوجائے گی، اگرچہ موکل کے شہر میں ابھی عید کی نماز نہ ہوئی ہو،اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

﴿مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ﴾(صحیح بخاری: 5545)

یعنی: جس نے نمازِ عید سے پہلے قربانی کی وہ دوبارہ قربانی کرے۔

اس حدیث میں  نبیﷺ نے ذبح کرنے والے کے لیے بیان فرمایا ہے، لہذا اعتبار اسی جگہ کی نماز کا ہے جہاں ذبح کیا جارہا ہو۔ چونکہ وکیل ہی عملی طور پر ذبح کررہا ہوتا ہے، اس لیے وقت کا اعتبار بھی اسی کے مقام کے مطابق ہوگا۔ نیز شرعی قاعدہ بھی یہی ہے”الوكيل قائم مقام موكله”
یعنی: وکیل اپنے موکل کے قائم مقام ہوتا ہے۔

لہٰذا اگر کسی شخص نے دوسرے شہر یا ملک میں کسی کو قربانی کا وکیل بنایا، تو قربانی کے صحیح ہونے کے لیے وکیل کے مقام پر وقتِ ذبح کا داخل ہونا معتبر ہوگا، نہ کہ موکل کے شہر کا وقت۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔