سوال: کیا تکافل(اسلامی انشورنس) واقعتاً اسلامی ہے ؟ کیا اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
بعد از تحقیق یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مروجہ تکافل(اسلامی انشورنس ) اور کمرشل انشورنس میں کوئی فرق نہیں ہے،اس میں بھی جوا ، سود اور غرر جیسے عناصر موجود ہیں، جس کی تفصیل ذیلی سطور میں پیش کی جاتی ہے:
۱۔ سود: اس میں سود اس اعتبار سے کہ صارف نے پریمیم کی جتنی رقم جمع کرائی ہو اور اس کو کلیم حاصل کرنا پڑ جائے اور کلیم کی رقم جمع کرائی گئی رقم سے زیادہ ہو ، تو جمع کرائی گئی رقم کمپنی کے ذمے قرض تھی اور صارف کا اس سے زیادہ وصول کرنا سود ہے، جو کہ حرام ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے کہ:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِين ï فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (سورۃ البقرۃ: 278& 279)
ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو ۔
۲۔ جوا : اس اعتبار سے کہ اگر پالیسی ہولڈر مدت سے پہلے فوت ہو جائے تو تھوڑی رقم دے کر بہت بڑی رقم حاصل کرتا ہے، اور اگر مدت تک زندہ رہے تو اکثر پریمیم مکمل یا جزوی طور پر ضبط ہو جاتا ہے،یہی جوئے کی تعریف ہے کہ دو فریقین کسی معاہدے پر مقررہ وقت کے ساتھ ایک رقم لگائیں اور اور وقت آنے پر کسی ایک کا نقصان اور دوسرے کا فائدہ ہوجائے، اس سے شریعت مطہرہ نے منع فرمایا ہے، چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
یعنی: اے ایمان والو! یہ شراب اور یہ جوا یہ آستانے اور پانسےسب گندے شیطانی کام ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاسکو۔(سورۃ المائدۃ:90)
۳۔ غرر(uncertinity) اس اعتبار سے نہ یہ معلوم کہ کمپنی کب رقم دے گی، کتنی دے گی، یا پالیسی ہولڈر کو کچھ واپس ملے گا یا نہیں۔ جبکہ شریعت نے غرر (uncertinity) والے معاملات سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ ہے:
﴿نَهَى رَسُولُ اللهِﷺعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ﴾ (صحیح مسلم:3808)
یعنی:نبیﷺ نے دھوکے والی بیع سے منع فرمایا ہے۔
اشکال: تکافل کے قائلین کی جانب سے اشکال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس میں "سود اور غرر ” موجود ہے، لیکن یہ تجارت نہیں بلکہ تعاون اور تبرع پر مبنی ہے لہذا یہ کام جائز ہے، جبکہ حقیقتِ حال میں یہ معاملہ تعاون نہیں بلکہ عینِ تجارت پر مبنی ہے،کیونکہ اگر واقعی یہ تبرع اور تعاون ہوتا تو شریک افراد اپنی رقم کی واپسی یا فوائد کے مطالبے کے حق دار نہ ہوتے، جبکہ عملی صورت میں ہر شریک اپنے تحفظ اور معاوضے کی غرض سے رقم دیتا ہے۔
نیز شرعا ًاگر کسی معاملے میں عوض (Compensation) مقصود ہو اور فریقین باقاعدہ مالی منفعت کے لیے معاہدہ کر رہے ہوں تو اسے محض "تعاون” یا "تبرع” کا نام دینے سے اس کی شرعی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔
خلاصہ کلام: مروجہ تکافل درحقیقت انشورنس کی ہی ایک صورت ہے نیز یہ بھی سود، جوا اور غرر ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی