بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
ٹک ٹاک کے ذریعے پیسے کمانا

ٹک ٹاک کے ذریعے پیسے کمانا

سوال:ٹک ٹاک سے پیسے کمانا کیسا ہے ؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

ٹک ٹاک سے پیسے کمانے کا جواز اس سے کمائی کے طریقے پر منحصر ہے۔ ٹک ٹاک میں کمائی کے بنیادی طور پر تین طریقہ ہیں:

1. اشتہارات

2. کریٹر فنڈکے ذریعے:ٹک ٹاک خود ویڈیوز بنانے کو پیسے دیتا ہے جوکہ ویڈیوزکی کار گردگی ویوز،لانکس، شیرز کے بنیاد پر اداکیے جاتے ہیں ۔

3. لائیو اسڑیم تحائف کے ذریعے :لائیو ویڈیوز کے دوران ، فالورز ورچوئل تحائف دیتے ہیں جنہیں نقد رقم میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔

پہلا طریقہ: اشتہارات سے پیسہ کمانا ان میں دکھائے جانے والے مواد پر منحصر ہے، اکثر اشتہارات میں موسیقی اور بے پردہ خواتین کی تصاویر ہوتی ہیں، چونکہ اشتہارات میں غیر شرعی امور موجود ہوتے ہیں،اب اس بات میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ یوٹیوب کے ساتھ یہ معاملہ موسیقی، خواتین کا بے پردہ ہونا، فحاشی جیسے بڑے گناہوں کے فروغ کا باعث ہے۔ انہی گناہوں کی وجہ سے یہ مونیٹائیزیشن جائز نہیں کیونکہ یہ گناہ/ فحاشی پر تعاون ہے، اور قرآن مجید میں رب العالمین نے ایک اصول بیان کیا ہے کہ برائی اور گناہ پر کسی اور کی معاونت/مدد کرنا حرام ہے، فرمان الہی:

وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ

یعنی: گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو (سورۃ المائدۃ: 02)

دوسرا طریقہ: creator funding کے ذریعے کمائی کا حکم یہ ہے کہ اگر اپلوڈ کیا جانے والے content میں کوئی غیر شرعی چیز مثلاً :Music،خواتین کی تصاویریا ویڈیو، یا کوئی غیر اخلاقی رقیہ(غیبت،جھوٹ، مذاق) شامل نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ کمائی جائز شمار ہوگی۔

تیسرا طریقہ: لائیو اسٹریم میں ملنے والے تحائف کو نقد میں تبدیل کرکے رقم کا حصول تب جائز ہوگا، جب content اوپر ذکر کردہ شرعی اصول و ضوابط کے مطابق ہو۔

ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

 

كتبه:مجلس الإفتاء، المدينہ اسلامک ریسرچ سینٹر

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔