سوال:کیا سٹاک ایکسچینج میں شئیرز کی خرید و فروخت کی جاسکتی ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
سٹاک ایکسچینج میں کمپنی کے شئیرز کی خرید وفروخت کا عمل کیا جاتا ہے،بنیادی طور پر یہ شئیرز کے حامل شخص کا کسی بھی کمپنی میں شراکت داری کو واضح کرتے ہیں ،شئیرز کی خریدوفروخت چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:
- وہ کمپنی اپنا حقیقت میں وجود رکھتی ہو،صرف کاغذی طور پر رجسٹرڈ نہ ہو۔
- کمپنی کے جامد اثاثے(Fixed Assets) کم از کم 75 فیصد موجود ہوں۔
- کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہو، یعنی جس چیز کی کمپنی ہو وہ کاروبار اصل میں جائز ہو، بطور مثال سیمنٹ بنانے والی کمپنی ہو،شراب بنانے والی فیکٹری نہ ہو۔
- کمپنی کے سرمائے میں سودی قرضہ شامل نہ ہو ، یعنی کمپنی کا اصل کاروبار تو جائز ہو لیکن اس کے سرمائے میں سودی قرضہ/اسلامی بینکوں کی سرمایہ کاری شامل نہ ہو۔
- کمپنی کے ذرائع آمدن میں کوئی ذریعہ آمدن حرام کی نہ ہو، مثلاً اس کمپنی نے بینک میں سیونگ اکاؤنٹ نہ کھولے ہوں ۔
- سٹاکس میں ٹریڈنگ کی جائے تو اس میں سے صرف جائز طریقے اختیار کیے جائیں(تفصیل کے دیکھیں فتویٰ نمبر:446588)
لہذا ان شرائط کا خیال رکھتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری درست ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی