سوال:سٹاک ایکسچینج میں کمپنی کے شئیرز کی ٹریڈنگ کرنا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنا بعض شروط کے ساتھ جائز ہے،تفصیل کے لیے دیکھیے فتویٰ نمبر:…، جہاں تک تعلق ہے شئیرز کی ٹریڈنگ اور خریدوفروخت کا تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ شئیرز کی ٹریڈنگ کی کئی اقسام ہیں، ذیل میں بنیادی اقسام کی مختصر وضاحت اور ان کا شرعی حکم بیان کیا جاتا ہے:
- Swing Trading: سوئنگ ٹریڈنگ میں صارف کسی بھی کمپنی کے شئیرزز کو کچھ وقت (ایک ہفتہ/ایک مہینہ) کے لیے خریدتا ہے، اور جب اس کی قیت بڑھتی ہے تو اس کو فروخت کردیتا ہے، اس میں چونکہ شئیرز مکمل طور پر صارف کی ملکیت میں آجاتے ہیں نیز ا س کی خریداری میں کسی قسم کا Leverage بھی نہیں ہوتا ، لہذا اس کی خریدو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
- Intra-Day Trading: اس ٹریڈنگ میں صارف کے مختلف اختیارات ہوتے ہیں، صارف اس میں شئیرز بغیر خریدے بیچ سکتا ہے بطور مثال اگر زید نے انٹرا ڈے ٹریڈنگ کرنی ہے تو وہ کسی پلیٹ فارم پر جائے گا اور شئیرز کا انتخاب کرکے بیچ دے گا، حالانکہ ابھی شئیرز اس کی ملکیت میں نہیں ہوتے ، اسی طر ح اگر شئیرز کی قیمت بڑھ گئی تو صارف کو فائدہ ہوجائے گا، نیز اگر اس میں صارف شئیرز خرید لے تو اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اسی دن مارکیٹ بند ہونےسے قبل شئیرز کو فروخت کرے بصورت ِ دیگر اس کا بروکر وہ شئیرز فروخت کردے گا، یہ دونوں امور (شئیرز بغیر خریدے فروخت کرنا یا شئیرز خرید کر اسی دن فروخت کرنا) شریعت اسلامیہ کی نظر میں ناجائز ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ](سنن ابی داؤد:3503)
یعنی: جو چیز تمہاری ملکیت /قبضے میں نہ ہو اس کو نہ بیچو۔
- Future Trading: اس میں مستقبل کی کسی تاریخ میں شئیرز کی خریدو فروخت کا معاہدہ کیا جاتا ہے،اور بوقتِ معاہدہ جو رقم طے ہوئی ہو اس کا ایک حصہ بطور ایڈوانس ادا کیا جاتا ہے، بطورِ مثال زید نے کسی کمپنی کے شئیرز خریدنے ہیں اور ان کی قیمت مارکیٹ میں آج 100 روپے ہے، فیوچر ٹریڈنگ میں زید وہ شئیر 120 روپے کے حساب سے خریدے گا اور یہ معاہدہ ہوگا کہ مارچ کی 10 تاریخ کو لین دین کیا جائے گا، اور ساتھ ہی زید20 روپے ابھی ادا کردے گا، اب مارچ کی 10 تاریخ کو دونوں پارٹیاں یہ دیکھیں گی کہ شئیر کی قیمت کیا ہے اگر شئیر کی قیمت 140 ہوگئی تو چونکہ زید نے وہ شئیر 120 کے حساب سے خریدا تھا ، تو ہ 120 میں باقی رقم (100 روپے) ادا کرے گا اس طرح اس کا 20 روپے کا فائدہ ہوجائے گا، اور اگر شئیر کی قیمت 100 روپے ہوگئ تو چونکہ اس نے وہ شئیر 120 کے حساب سے خریدا تھا ، تو ہ 120 میں باقی رقم (100 روپے) ادا کرے گا اور اس میں اس کا 20 روپے کا نقصان ہوجائے گا۔
- Option Trading: یہ معاملہ بھی کم و بیش Future Trading کی طرح ہی ہوتا ہے، فقط فرق یہ ہوتا ہے کہ اس میں صارف پر یہ پابندی نہیں ہوتی کہ وہ شئیر کو لازمی خریدے، مثال کے طور پر زید نے آپشن ٹریڈنگ کرتے ہوئے ایک کمپنی کا شئیر جس کی اصل قیمت 80 روپے ہے وہ 100 روپے کا آپشن لگاتے ہوئے خریدا اور ایڈوانس رقم 10 روپے ادا کردی اب اگر مقررہ تاریخ کو شئیر کی قیمت 120 ہوگئی تو وہ 100روپے میں باقی رقم (90 روپے) ادا کردے گا، اور اگر شئیر کی قیمت 80 ہوگئی تو وہ شئیر خریدنے کا پابند نہیں ہے اور اس طرح اس کا صرف اس رقم (10 روپے) کا نقصان ہوگا جو اس نے ایڈوانس جمع کرائی ہے۔
Future اور Option دونوں ٹریڈنگ میں یہ واضح طور پر جوا ہے چانچہ جوئے کی تعریف یہ ہے کہ دو فریقین کسی معاہدے پر مقررہ وقت کے ساتھ ایک رقم لگائیں اور اور وقت آنے پر کسی ایک کا نقصان اور دوسرے کا فائدہ ہوجائے، اس سے شریعت مطہرہ نے منع فرمایا ہے، چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ] (سورۃ المائدۃ:90)
یعنی: اے ایمان والو! یہ شراب اور یہ جوا یہ آستانے اور پانسےسب گندے شیطانی کام ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاسکو۔
نیز Intra-Day , Future , Option میں ایک شرعی قباحت ان تینوں میں Leverage کا ہونا ہے ، جو کہ واضح سود کی صورت ہے۔
خلاصہ کلام: سٹاک ایکسچینج میں صرف Swing Trading ہی کی جاسکتی ہے، باقی اقسام کی ٹریڈنگ شرعی قباحتوں کی موجودگی کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصوابّ
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی