سوال: غیر شادی شدہ لڑکی کا زیب و زینت اختیار کرنا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
صورتِ مسئولہ میں غیر شادی شدہ لڑکی کے لیے زیب و زینت اختیار کرنا اصلًا جائز ہے، بلکہ یہ عورت کی فطرت کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کی فطری زینت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ﴾(سورۃ الزخرف: 18)
یعنی:کیا وہ (اللہ کی اولاد ہے) جو زیور میں پرورش پاتی ہے اور بحث و گفتگو میں واضح بات بھی نہیں کر سکتی؟
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا زینت اختیار کرنا اس کی فطرت اور عادت میں شامل ہے، اور شریعت نے فی نفسہٖ اس سے منع نہیں کیا،البتہ زینت اختیار کرتے وقت درج ذیل شرعی آداب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
۱۔لباس شرعی پردے کے مطابق ہو، باریک، تنگ یا جسم کے اعضاء کو نمایاں کرنے والا نہ ہو۔
۲۔ زینت کا اظہار غیر محرم مردوں کے سامنے نہ کیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾(سورۃ النور: 31)
یعنی:اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو خود بخود ظاہر ہو جائے۔
۳۔زینت میں کفار یا فاسق عورتوں کی مخصوص مشابہت، یا اسراف و تکبر کا پہلو نہ ہو۔
خلاصہ کلام:غیر شادی شدہ لڑکی کے لیے زیب و زینت اختیار کرنا شرعاً جائز ہے، بلکہ یہ عورت کی فطری خصوصیت ہے، تاہم اس کا اظہار صرف جائز حدود میں ہو، غیر محرموں کے سامنے زینت ظاہر نہ کی جائے، اور لباس و آرائش شریعت کے تقاضوں کے مطابق ہو۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی