بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
کریک سافٹ ویئرز کے استعمال کا حکم

کریک سافٹ ویئرز کے استعمال کا حکم

سوال: کریک (Cracked) سافٹ ویئرز یا کریک شدہ کتابوں کے استعمال کا کیا حکم ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

اگر کسی سافٹ ویئر، کتاب یا ڈیجیٹل پروڈکٹ کے حقوق (Copyright / License) کسی فرد یا کمپنی کے پاس محفوظ ہوں، اور وہ اسے بغیر اجازت استعمال کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوں، تو اسے کریک کرکے یا کریک شدہ نسخہ استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ دوسروں کے مالی و ملکیتی حقوق پر ناجائز تصرف اور دھوکے کے ذریعے ان کے حق کو ضائع کرنا ہے، جو کہ حرام ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾(سورۃ النساء: 29)

یعنی:اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔
نیز  نبیﷺ کا فرمان ہے:

«لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ»(مسند أحمد: 20695)

یعنی: کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔
نیز کمپنی کو دھوکہ دے کر اس کا مال استعمال کرنا بھی ہے جو کہ ناجائز ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

«مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»(صحیح مسلم:102)

یعنی:جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
لہٰذا کسی سافٹ ویئر یا کتاب کی حفاظتی پابندیاں توڑ کر اسے استعمال کرنا، یا ایسی کریک شدہ کاپی خریدنا اور استعمال کرنا، اس ناجائز عمل میں تعاون کے مترادف ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾(سورۃ المائدۃ: 2)

یعنی:گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
خلاصہ:حقوقِ ملکیت رکھنے والی کمپنی یا مصنف کی اجازت کے بغیر کریک شدہ سافٹ ویئر یا کتاب استعمال کرنا، یا اس کی خرید و فروخت کرنا، شرعاً جائز نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ اصل (Licensed) نسخہ استعمال کرے یا مفت اور قانونی متبادل اختیار کرے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔