بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
ملازم کو کمپنی کی طرف سے دیا جانے والے ہیلتھ کارڈ کا حکم

ملازم کو کمپنی کی طرف سے دیا جانے والے ہیلتھ کارڈ کا حکم

سوال:کمپنی کی طرف سے ہیلتھ کارڈ یا انشورنس کی سہولت ملے تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

کمپنی کی طرف سے ملازمین کو دی جانے والی طبی سہولت (Health Coverage) کی دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت:اگر کمپنی ملازم کے علاج کی ذمہ داری خود لیتی ہو، خواہ اپنے میڈیکل فنڈ سے اخراجات ادا کرے یا کسی ادارے کے ذریعے علاج کی سہولت فراہم کرے، اور یہ ملازمت کے فوائد (Employment Benefits) کا حصہ ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ یہ ملازم کی اجرت اور مراعات میں شامل ہے۔

دوسری صورت:اگر کمپنی روایتی (تجارتی) انشورنس کمپنی کا ہیلتھ کارڈ فراہم کرے، تو ا انشورنس شرعاً جائز نہیں؛ کیونکہ اس میں غرر اور ربا جیسے شرعی محاذیر پائے جاتے ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیں فتویٰ نمبر:445826

البتہ ملازم کی حیثیت سے اس کی درج ذیل صورتیں ہیں:

  • اگر ملازم کی تنخواہ سے انشورنس کی رقم کاٹی جا رہی ہو، تو ضرورت کے وقت وہ اپنی ادا کردہ رقم یا اس کے بقدر فائدہ حاصل کر سکتا ہے، اس سے زائد رقم لینا جائز نہیں۔
  • اگر انشورنس کی پوری رقم کمپنی نے ملازم کی طرف سے ادا کی ہو اور یہ اس کی ملازمت کی مراعات کا حصہ ہو، تو ملازم اتنی ہی رقم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جتنی رقم کمپنی نے اس کی طرف سے جمع کروائی ہو۔ اس سے زائد انشورنس کلیم وصول کرنا درست نہیں۔

اس لیے اگر کمپنی نے مثال کے طور پر ملازم کی طرف سے 1,000 روپے انشورنس پریمیم ادا کیا ہے تو ملازم اسی قدر رقم کا حق دار ہوگا، پانچ لاکھ روپے یا اس سے زائد انشورنس کلیم وصول کرنا جائز نہیں۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔