بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
بیعانہ (ٹوکن منی) ضبط کرنے کا حکم

بیعانہ (ٹوکن منی) ضبط کرنے کا حکم

سوال: بیعانہ (Advance/Token Money) کا کیا حکم ہے؟ اگر خریدار ایڈوانس دے دے اور بعد میں سودا منسوخ ہو جائے تو کیا بیچنے والا بیعانہ ضبط کر سکتا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

خرید و فروخت کا معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اگر فریقین باہمی رضامندی سے اسے ختم کر دیں تو فقہی اصطلاح میں اسے “اقالہ کہا جاتا ہے۔ شریعت نے اقالہ کی ترغیب دی ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

﴿مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ﴾(سنن أبي داود: 3460)

یعنی: جس شخص نے کسی مسلمان کا سودا واپس کر لیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزشیں معاف فرما دیں گے۔
اقالہ کا تقاضا یہ ہے کہ ہر فریق وہی چیز واپس کرے جو اس نے وصول کی تھی، لہٰذا اصل حکم یہ ہے کہ خریدار کو اس کا دیا ہوا بیعانہ واپس کیا جائے،جہاں تک بیعانہ ضبط کرنے  کا تعلق ہے، تو اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے روایت ہے:

﴿نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ﴾(سنن أبي داود: 3502، في سنده ضعف)

یعنی: رسول اللہ ﷺ نے بیعِ عربون (بیعانہ کو ضبط کرنے)سے منع فرمایا۔
البتہ اگر خریدار کے معاہدہ توڑنے کی وجہ سے فروخت کنندہ کو حقیقی مالی نقصان پہنچا ہو، مثلاً مارکیٹ ویلیو کم ہو گئی ہو، یا اس نے اس معاہدے کی بنیاد پر کوئی مالی ذمہ داری اٹھائی ہو، تو صرف بقدرِ حقیقی نقصان بیعانے میں سے کاٹا جا سکتا ہے، اس سے زیادہ لینا جائز نہیں۔اس کی دلیل نبیﷺ کا فرمان ہے:

﴿لَا رِبْحَ مَا لَمْ يُضْمَنْ﴾(سنن  ابی داؤد: 3504)

یعنی: جس چیز کا ضمان (رسک) نہ اٹھایا جائے، اس کا نفع لینا جائز نہیں۔
یعنی محض اس وجہ سے کہ رقم بطور بیعانہ دی گئی تھی، بغیر کسی حقیقی نقصان کے اسے ضبط کر لینا درست نہیں؛ کیونکہ یہ ایسا نفع حاصل کرنا ہے جس کے مقابلے میں کوئی ضمان یا نقصان برداشت نہیں کیا گیا۔لہٰذا اگر نقصان ثابت ہو تو صرف اسی قدر رقم روکی جا سکتی ہے، اور اگر کوئی نقصان نہ ہوا ہو تو پورا بیعانہ واپس کرنا لازم ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔