سوال:مخلوط ماحول یا موسیقی والی دعوتوں میں شرکت کرنا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
اس مسئلے کا حکم حالات کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے:
پہلی صورت:اگر آپ کی موجودگی سے اس مجلس میں ہونے والی برائیاں ختم ہو سکتی ہوں، مثلاً گانے بند ہو جائیں، پردے کا اہتمام ہو جائے، یا آپ کی نصیحت مؤثر ثابت ہو اور منکرات کو روکنے کی حقیقی امید ہو، تو ایسی صورت میں وہاں جانا جائز ہے، جیسا نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ہے:
«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ»(صحیح مسلم:49)
یعنی: تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾(سورۃ المائدۃ: 2)
یعنی:نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔
دوسری صورت:اگر غالب گمان یہ ہو کہ آپ کے جانے سے کوئی برائی ختم نہیں ہوگی، نہ گانے بند ہوں گے، نہ بے پردگی یا اختلاط ختم ہوگا، بلکہ آپ صرف اس مجلس کا حصہ بن جائیں گے، تو ایسی تقریب میں شرکت جائز نہیں؛ کیونکہ اس میں گناہ کے ماحول میں موجود رہنا اور بالواسطہ اس کی تائید کا پہلو پایا جاتا ہے۔جبکہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ﴾(سورۃ النساء: 140)
یعنی:جب تم ایسی مجلس میں ہو جہاں اللہ کی آیات کا انکار یا ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں۔
مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا﴾(سورۃ الفرقان: 72)
یعنی: اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو باطل اور لغو کاموں میں شریک نہیں ہوتے، اور جب ایسی چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں۔
لہٰذا اگر اصلاح کی حقیقی امید ہو تو حکمت کے ساتھ برائی کو روکنے کی کوشش کی جائے، اور اگر اصلاح ممکن نہ ہو تو ایسی محفل میں شرکت سے اجتناب کیا جائے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی