سوال: بچوں کے لیے جاندار کی مشابہت رکھنے والے کھلونوں کا کیا حکم ہے؟ نیز ان کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
جانداروں کی تصاویر اور مجسمے بنانے کی شریعت میں سخت ممانعت آئی ہے، اور ان پر متعدد وعیدیں وارد ہوئی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے تصویر سازی کو گناہ قرار دیا ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ المُصَوِّرُونَ﴾(صحیح بخاری:5950)
یعنی: اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہوگا ۔
نیز نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿أَنَّ المَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ﴾(صحیح بخاری:3351)
یعنی:(رحمت) فرشتے کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں رکھی ہوں۔
البتہ بچوں کے کھلونوں کے معاملے میں شریعت نے رخصت دی ہے، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے:
﴿كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّﷺ﴾(صحیح بخاری:6130)
یعنی:نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں ۔
نیز سیدہ سیدہ ربیع بن معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں:
﴿كُنَّا نَصُومُهُ بَعْدُ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا وَنَجْعَلُ لَهُمْ اللُّعْبَةَ مِنْ الْعِهْنِ فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهُ ذَاكَ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الْإِفْطَارِ﴾ (صحیح بخاری:1960)
یعنی: ( رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد ) ہم روزہ رکھتے اور اپنے بچوں سے بھی رکھواتے تھے، اور ہم ان کے لیے اون کا ایک کھلونا دے کر بہلائے رکھتے، جب کوئی کھانے کے لیے روتا تو وہی دے دیتے، یہاں تک کہ افطار کا وقت آجاتا۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کی تعلیم، تربیت اور دل بہلانے کے لیے جاندار کی مشابہت رکھنے والے کھلونوں کی اجازت ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کھلونوں کی تعظیم مقصود نہیں ہوتی، بلکہ بچے انہیں کھیل کے دوران استعمال کرتے، گراتے اور توڑتے ہیں، لہٰذا وہ عبادت یا تعظیم کا ذریعہ نہیں بنتے۔لہٰذا بچوں کے استعمال کے لیے ایسے کھلونوں کی خرید و فروخت بھی جائز ہے، بشرطیکہ:
- وہ واقعی بچوں کے کھیل کے لیے ہوں۔
- ان میں کوئی فحاشی، بے حیائی یا غیر اسلامی تعلیم نہ ہو۔
- ان کا مقصد تعظیم یا شرکیہ عقائد کی ترویج نہ ہو۔
البتہ بچوں کو ایسے کھلونے فراہم کرنا جن میں درندوں، خنزیر یا ایسے جانوروں کی غیر ضروری تشہیر ہو جن سے غیر مسلم تہذیب میں خاص وابستگی پائی جاتی ہے، یا جو بچوں کی اخلاقی و اسلامی تربیت پر منفی اثر ڈالیں، مناسب نہیں۔ لہذا والدین کو چاہیے کہ وہ ایسے کھلونوں کا انتخاب کریں جو بچوں کی جائز تفریح کے ساتھ ساتھ ان کی دینی اور اخلاقی تربیت میں بھی معاون ہوں۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی