سوال: تشہد میں “السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ“ پڑھنا کیسا ہے؟ کیا اس سے نبی کریم ﷺ کو حاضر مان کر خطاب کرنے کا مفہوم لازم آتا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو نبیﷺ نے تشہد کی تعلیم انتہائی تاکید سے دی، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:
﴿ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِﷺ، وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ، التَّشَهُّدَ، كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ القُرْآنِ﴾(صحیح بخاری:6265)
یعنی:رسول اللہ ﷺنے مجھے تشہد سکھایا، اس وقت میر اہاتھ نبیﷺ کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا ( اس طرح سکھایا ) جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھا یا کرتے تھے۔
نیز تشہد میں “السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ“ پڑھنا سنتِ نبویﷺ ہے۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا اس سے نبیﷺ کو خطاب کرنے کا مفہوم لازم آتا ہے؟ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ اس سیاق میں أَيُّهَا النَّبِيُّ” کے دو مفہوم لیے جاتے ہیں:
۱۔محبت اور تعظیم کے طور پر خطاب: انسان جس شخصیت سے قلبی تعلق رکھتا ہو، اسے اپنے ذہن میں حاضر کرکے خطاب کر سکتا ہے،چاہے وہ سامنے موجود نہ بھی ہو۔ نیز ہر خطاب سے مخاطَب کا جسمانی طور پر حاضر ہونا یا اس کو سنانا لازم نہیں آتا، جیسا کہ چاند دیکھنے کی دعا میں ہم کہتے ہیں: ﴿رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ﴾،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چاند ہماری بات سن رہا ہے، بلکہ یہ عربی اسلوبِ خطاب ہے۔
۲۔حاضر و ناظر سمجھ کر خطاب کرنا:اگر کوئی شخص “السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ“ اس عقیدے کے ساتھ پڑھے کہ نبی کریم ﷺ بذاتِ خود ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں، لوگوں کی باتیں براہِ راست سنتے ہیں اور نماز پڑھنے والوں کے سامنے موجود ہیں، تو یہ عقیدہ درست نہیں، کیونکہ اس کی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں، بلکہ یہ اسلامی عقیدہ کے خلاف ہے۔
نیز نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ﴾(سنن نسائی:1283)
یعنی: اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو زمین میں ہر وقت چلتے پھرتے رہتے ہیں۔ وہ مجھے میری امت کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امتیوں کی طرف سے سلام اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرشتے نبی کریم ﷺ تک پہنچاتے ہیں، اسی بنیاد پر تشہد میں “السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ“ پڑھتے وقت بھی یہی اعتقاد ہونا چاہیے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے لیے سلامتی کی دعا کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرشتے اس سلام کو آپ ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔
مزید یہ کہ اگر یہ الفاظ حقیقی معنوں میں کسی حاضر شخص سے گفتگو ہوتے، تو نماز کے اندر کسی انسان سے کلام لازم آتا، حالانکہ نماز میں لوگوں سے گفتگو کرنا ممنوع ہے اور جان بوجھ کر ایسا کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر یہ حقیقی خطاب ہوتا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسے بلند آواز سے کہتے تاکہ رسول اللہ ﷺ سن کر جواب دیتے، جیسا کہ ملاقات کے وقت سلام کا جواب دیا کرتے تھے، جبکہ ایسا منقول نہیں۔
خلاصہ کلام: تشہد میں “السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ“ پڑھنا سنت ہے، اس سے نبی کریم ﷺ کو ہر جگہ حاضر و ناظر ماننا لازم نہیں آتا، بلکہ یہ آپ ﷺ کے حق میں سلامتی کی دعا، محبت اور تعظیم کا اظہار ہے، اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرشتے اس سلام کو آپ ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی