بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
بہنوئی/دیور/جیٹھ/نندوئی سے پردہ کرنا

بہنوئی/دیور/جیٹھ/نندوئی سے پردہ کرنا

سوال:کیا بہنوئی/دیور/جیٹھ/نندوئی سے پردہ کرنا ضروری ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

بہنوئی، دیور، جیٹھ، نندوئی، پھوپا اور اسی طرح دیگر وہ رشتہ دار جن سے نکاح جائز ہے، سب نامحرم ہیں، لہٰذا ان سے پردہ کرنا شرعاً ضروری ہے،اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں ان محرم رشتوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے سامنے عورت  پردہ کرنا ضروری نہیں ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ﴾(سورۃ النور: 31)

یعنی:اور وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں، اپنے باپوں، اپنے شوہروں کے باپوں، اپنے بیٹوں، اپنے شوہروں کے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھتیجوں اور اپنے بھانجوں کے سامنے۔
اس آیت میں جن رشتوں کا ذکر نہیں کیا گیا، وہ اصل حکم کے مطابق نامحرم شمار ہوں گے، لہٰذا ان سے پردہ ضروری ہے۔مزید نبی ﷺ نے فرمایا:

﴿ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ﴾(صحیح مسلم:2172)

یعنی: تم (اجنبی) عورتوں کے ہاں جانے سے بچو۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! دیور/ جیٹھ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حمو (دیور/جیٹھ /بہنوئی /نندوئی )تو موت ہے۔

اہلِ علم کے مطابق  “الحمو” سے مراد شوہر کے وہ قریبی رشتہ دار ہیں جو محرم نہیں، جیسے دیور، جیٹھ اور ان کے مشابہ افراد۔ حدیث میں ان سے بے تکلفی اور اختلاط کے فتنے کی شدت کو بیان کیا گیا ہے۔

لہٰذا بہنوئی، دیور، نندوئی اور دیگر نامحرم رشتہ داروں سے شرعی پردہ کرنا واجب ہے اور ان کے ساتھ غیر ضروری اختلاط اور بے تکلفی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔