بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
سگریٹ پی کر مسجد میں آنا

سگریٹ پی کر مسجد میں آنا

سوال: کیا سگریٹ نوش شخص سگریٹ نوشی کے فوراً بعد جماعت  کے لیے مسجد آسکتا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ سگریٹ  نشہ آور ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ](صحیح بخاری:242)

یعنی: ہر وہ چیز جو نشہ دلانے والی ہو وہ  حرام ہے۔

نیز نشہ آور اشیاء کا استعمال  کرنے سے چالیس دن کی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ وَسَكِرَ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ] (سنن ابن ماجہ:3377)

یعنی: جس شخص نے شراب  پی (نشہ کیا) ،اس کی چالیس دن نماز قبول نہیں ہو ں گی۔اور اگروہ(توبہ کئے بغیر )مر گیا تو جہنم میں جائے گا۔اگر اس نے توبہ کی تو اللہ اس کی توبہ قبول فر ئے گا۔

لہذا سگریٹ کا استعمال تو ویسے ہی حرام ہے، نیز جہاں تک صورتِ مسؤلہ کا تعلق ہے تو نبیﷺ نے پیاز اور لہسن کھاکر مسجد آنے سے سختی سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[ مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَالْكُرَّاثَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ](صحیح مسلم:1245)

یعنی: جس نے پیاز ، لہسن اور گندنا کھایا ، تو وہ ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے (بھی )ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جس جن سے آدم کے بیٹے اذیت محسوس کرتےہیں ۔

اس حدیث میں نبیﷺ نے  ان اشیاء سے اس وجہ سے روکا ہے کیونکہ ان کے کھانے سے اس کے منہ سے بدبو آتی ہے اور اس سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور جس چیز سے انسان تکلیف محسوس کریں تو اس سے فرشتوں کو بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے، لہذا سگریٹ نوشی کرنے سے چونکہ منہ سے بدبو آتی ہے اور انسانوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے، لہذا اس کا استعمال کرکے مسجد میں آنا درست نہیں ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔