بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
سگریٹ/ Vape / نسوار کا حکم

سگریٹ/ Vape / نسوار کا حکم

سوال:کیا سگریٹ/ویپ(شیشہ)/نسوار وغیرہ کا استعمال جائز ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ دینِ اسلام نے لوگو ں   کے مال،جان اور عزت کی  حفاظت و  سلامتی کی خاطرصرف پاکیزہ  چیزوں کو حلال قرار دیا ہے اور گندی اور ناپاک چیزوں  اور قابلِ نقصان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ] (سورۃ الاعراف:157)

یعنی: (وہ نبی اللہ کے حکم سے) پاکیزہ چیزوں کو حلال بناتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں۔

نیز شریعت اسلامیہ نے  مال کے بے جا استعمال کو بھی حرام قرار دیا ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[ إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ](صحیح بخاری:1447)

یعنی: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتیں پسند نہیں کرتا:بلاوجہ کی گپ شپ، فضول خرچی(مال ضائع کرنا)، کثرت کے ساتھ(فالتو) سوال کرنا۔

مزید  اسلای تعلیمات میں ہر اس چیز کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے جو انسان کے لیے نشے کا باعث بنے،جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ](صحیح بخاری:242) یعنی: ہر وہ چیز جو نشہ دلانے والی ہو وہ  حرام ہے۔

نیز  اگر کوئی ایسی چیز ہو جس کی زیادہ مقدار نش دیتی ہو تو اس کی کم مقدار بھی حرام ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ](سنن ابی داؤد:3681) یعنی: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ دے ،ا س کی کم مقدار بھی حرام ہے۔

ان تمام دلائل کوسامنے رکھتے ہوئے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ  چونکہ سگریٹ میں نشہ  ہوتا ہے اس لیے اس کا استعمال جائز نہیں ہے، مزید اس کے استعمال میں مال کا ضیاع  بھی اور یہ ناپاک چیز ہے جو کہ انسانی عقل  و جسم کو نقصان بھی پہنچاتی ہے، اور شریعت اسلامیہ میں ہر ایسی  چیز جو نقصان پہنچائے وہ حرام ہے، جیسا کہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ](سورۃ البقرۃ:195)

یعنی: اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

خلاصہ کلام: سگریٹ کا استعمال کرنا مال کا ضیاع، نشہ آور چیز کا استعمال اور  عقل و جسم کے نقصان ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔