سوال:اگر مستقل سننِ موکدہ پڑھنے کی عادت ہو اور کبھی چھوٹ جائے تو اس کی قضاء پڑھ سکتے ہیں؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
اگر کسی شخص کی سننِ مؤکدہ کی پابندی کی عادت ہو اور کسی عذر، بھول یا مجبوری کی وجہ سے وہ سنتیں وقت پر ادا نہ کر سکا ہو اور ان کی قضاء کرنا چاہتا ہو تو کرسکتا ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی بیماری یا عذر کی وجہ سے رات کا معمول (نوافل) ادا نہ کر پاتے تو دن میں اس کی قضاء فرما لیتے تھے،جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
﴿كَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً﴾(صحیح مسلم؛746)
یعنی: نبی ﷺ کو اگر نیند یا بیماری رات کے قیام سے روک دیتی تو آپ دن میں بارہ رکعت ادا فرما لیتے تھے۔
مزید ایک روایت میں اماں عائشہ فرماتی ہیں:
﴿كَانَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ صَلَّاهُنَّ بَعْدَهُ﴾(سنن نسائی:581)
یعنی:نبیﷺ جب ظہر سے پہلے چار رکعتیں نہ پڑھ پاتے توانہیں آپ اس کے بعد پڑھتے۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو نوافل اور سنن معمول کے طور پر پڑھی جاتی ہوں، اگر کسی عذر کی وجہ سے رہ جائیں تو ان کی قضاء کرنا جائز اور مستحب ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی