بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
“قرآن اللہ کا کلام ہے” اس کا صحیح مفہوم

“قرآن اللہ کا کلام ہے” اس کا صحیح مفہوم

سوال:کیا قرآن اللہ کا کلام ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا حقیقی کلام ہے۔ اس کے الفاظ اور معانی دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ پر وحی کے ذریعے نازل فرمایا۔ یہی اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ﴾(سورۃ التوبۃ: 6)

اور اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دیجیے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے “کلام اللہ” فرمایا ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے۔بعض متکلمین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن صرف “کلامِ نفسی” ہے اور اس کے الفاظ اللہ تعالیٰ کا حقیقی کلام نہیں، لیکن قرآن و سنت کے ظاہری نصوص اس کی تائید نہیں کرتے۔ شریعت میں “کلام” کا اطلاق بولے جانے والے اور سنے جانے والے الفاظ پر ہوتا ہے، اسی لیے قرآن کو پڑھا جاتا ہے، سنا جاتا ہے اور یاد کیا جاتا ہے۔نیز اہلِ لغت کے نزدیک بھی “کلام” الفاظ اور حروف پر بولا جاتا ہے، اور قرآنِ کریم انہی الفاظ و حروف کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔

لہٰذا یہ عقیدہ رکھنا واجب ہے کہ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا حقیقی کلام ہے، مخلوق نہیں، اور اس کے الفاظ و معانی دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔