بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
مروجہ اسلامی بینکاری کے اجارہ المنتھية بالتمليك کا حکم

مروجہ اسلامی بینکاری کے اجارہ المنتھية بالتمليك کا حکم

سوال:کیا   میزان بینک سے  گاڑی یا گھر بذریعہ اجارۃ المنتهية بالتمليك خریدی جاسکتی ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

میزان بینک سے جب  صارف گاڑی کی خریداری  کا معاہدہ کرتا ہے تو بینک اس کو ’’اجارۃ  المنتهية بالتملیک ‘‘ کا نام دیتے ہیں، اس میں صارف  کوئی گاڑی پسند  کرتا ہے، اور بینک وہ گاڑی  خریدتا ہے، جس کے بعد صارف بینک سے وہ گاڑی مقرر  وقت کے لیے کرائے پر لے لیتا ہے اور مقررہ وقت مکمل ہونے پر بینک معمولی رقم  کے بدلے وہ گاڑی صارف کو فروخت کردیا ہے یا پھر ہدیہ کردیتا ہے، شرعاً کیا اس معاہدے کے تحت گاڑی خریدی جاسکتی ہے؟ ہم  بتوفیق اللہ تعالیٰ وعونہ اس کا جواب تحریر کرتے ہیں۔ شرعاً اس معاہدے میں کئی خرابیاں موجود ہیں جس ی وجہ سے اس معاہدے سے گاڑی خریدنا جائز نہیں ہے بلکہ تقریباً سودی قرضہ کی صورت ہی ہے، ان  خرابیوں کا ذکر اختصاراً کیا جاتا ہے ۔

۱۔ بینک کا اس معاہدے کو اجارے کا نام دینا انتہائی مشکوک عمل ہے، کیونکہ اجارہ میں صارف کا مقصد کسی بھی چیز کی منفعت کا حصول ہوتا ہے، جبکہ  بینک کے اجارے میں مقصود چیز کی ملکیت کا حصول ہوتا ہے ،جو کہ شرعی اجارے کے خلاف ہے، کیونکہ  مالی معاملات میں یہ  اصول ہے کہ  ’’العبرة في العقود بالمقاصد والمعاني لا بالألفاظ والمباني‘‘ یعنی: معاملات میں مقاصد کا اعتبار کیا جاتا ہے ، ظاہری الفاظ کا نہیں۔

نیز  شرعی اجارہ میں انتہائے مدت کے بعد مالک  چیز کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ مروجہ اجارہ میں ایسا نہیں ہوتا۔ ان وجوہات کی بنیاد پر اس کو اجارہ نہیں بلکہ ’’خرید و فروخت ‘‘ کا معاملہ ہی شمار کیا جائے گا۔

۲۔چونکہ یہ خرید وفروخت کا معاملہ ہے ، اسی بنیاد پر صارف سے  جو معاہدہ لیا کہ وہ گاڑی بینک سے  لازمی  کرائے پرلے   گا، اور اس پر اس سے سکیورٹی ڈیپازٹ لینا دراصل بینک کا اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ کرنا ہے جبکہ نبیﷺ نے ایسی سرمایہ کاری جس پر کوئی ضمانت(Risk) نہ ہو اس کا منافع حرام قرار دیا ہے، جیساکہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[لَا رِبْحُ مَا لَمْ تَضْمَنْ]  (سنن ابی داؤد:3504)

یعنی: جب تم  کسی  مال  کے نقصان کا  ضامن (ذمے دار)  نہ ہو  تو تمہارے  لیے  اس کا نفع لینا بھی جائز نہیں ہے۔

۳۔ بوقتِ معاہدہ بینک کا صارف سے یہ معاہدہ کرنا کہ معاہدے کے اختتام پر یا تو یہ گاڑی ہم آپ  کو ہدیہ کردیں گے یا معمولی قیمت میں فروخت کردیں گے۔ دونوں صورتوں میں یہ معاملہ جائز نہیں ہے، کیونکہ اگر معمولی قیمت بیچنے کا معاہدہ ہو تو ایک معاہدے میں دو معاہدے ہوں گے جس سے شریعت نے منع فرمایا ہے،جیسا کہ حدیث نبویﷺ ہے:

[ نَهَى رَسُولُ اللَّهِﷺ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ](سنن نسائی:4636)

یعنی: رسول اللہﷺ نے ایک سودے میں دو سودوں سے منع فرمایا۔

اور اگر   بینک صارف کو ہدیہ دینے کا معاہدہ کرے تو پھر یہ ہدیہ کسی چیز کے عوض میں ہوگا اور جو ہدیہ کسی چیز کے عوض میں ہو باقاعدہ معاہدے کی بنیاد پر ہو وہ ہدیہ نہیں  ہوتا۔

خلاصہ کلام: میزان بینک سے اجارہ پر گاڑی لینا درحقیقت سودی قرضے کی ہی ایک صورت ہے، اس کا شرعی  اجارہ سے کوئی تعلق  نہیں ہے،اس وجہ سے اس معاہدے پر گاڑی لینا جائز نہیں ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔