بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
مروجہ اسلامی بینکاری کے مرابحہ کا حکم

مروجہ اسلامی بینکاری کے مرابحہ کا حکم

سوال :اسلامک بینک سے گھر یا گاڑی کی خریداری  کرنا کیساہے؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب

ملک پاکستان میں مروجہ اسلامی  بینکوں سے گاڑی  ،گھر یا کسی بھی سامان  کی خریداری کا معاہدہ کرنا بہت ساری شرعی قباحتوں کی وجہ سے محل نظر ہے، اگرچہ اسلامی بینک اس معاہدے کو نام تو  “مرابحہ”  کا دیتے ہیں، جو  کہ  اصلاً خرید و فروخت کا ایک شرعی  معاملہ ہے، لیکن یہ اسلامی بینک نے یہ تعلق  صرف نام کی حد تک  ہی قائم رکھا ہے، اصلاً اس معاہدے کا   “شرعی مرابحہ”   سے کوئی تعلق نہیں ہے، جسکی بہت سی وجوہات ہیں، ذیل میں اختصارا ً ذکر کی جاتی ہیں:

  • (Master Murabaha Facility Agreement ) میں صارف سے لیا جانے والا وعدہ اور اس کا لازمی ایفاء “:    یہاں قباحت یہ آتی ہے کہ بینک جب صارف سے یہ وعدہ لے رہا ہوتا ہے اس وقت مطلوبہ سامان بینک کے پاس موجود نہیں ہوتا تو گویا کہ بینک صارف کو وہ چیز بیچ رہا ہے جس کا وہ مالک نہیں اور اس سے نبیﷺ نے منع فرمایا ہے:[ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ]’’ جو چیز تمہارے پاس نہیں اسکو فروخت نہ کرو‘‘۔(سنن ابی داؤد:3503)
  • “مطلوبہ سامان کی خریداری میں صارف ہی کو وکیل مقرر کردینا“: صارف ہی کو وکیل بنادینے سے بینک کا عملی طور پر مرابحہ میں کوئی کردار باقی نہیں رہتا اس کی کوئی محنت نہیں ہوتی تو مرابحہ کے منافع کو جائز کہنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔  بعض بینک صارف کو وکیل بنا دینے کے بعد مطلوبہ سامان کی قیمت کے برابر رقم صارف کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیتے ہیں ، اور پھر صارف کی طرف سے ملنے والی سامان کی رسید پر مرابحہ کا معاہدہ کرلیتے ہیں، یہ معاملہ تو بالکل ایسا ہے کہ کوئی شخص کسی کو کوئی چیز خریدنے کے لئے قرض فراہم کرے اور پھر اس قرض پر سود وصول کرے۔
  • “اقساط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں صارف پر لگایا جانے والا جرمانہ”: اگر قرضدار مالدار  ہو اور قرض ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود ادائیگی میں جان بوجھ کر تاخیر کا مرتکب ہو تو وہ شریعت کی نظر میں ظالم ہے۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:[مطل الغني ظلم] (ترمذی: 1309)

یعنی: مالدار (قرضدار ) کا (ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔

بلکہ شریعت نے اس حوالہ سے قرض خواہ کی رہنمائی بھی کی ہے کہ وہ اس صورت میں کیا کرے ۔نبیﷺ  کا فرمان ہے:”

لي الواجد يحل عرضه وعقوبته”

(ابو داؤد: 3628) یعنی:  مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور اس پرسزا کو حلال کردیتا ہے۔

عبد اللہ ابن المبار ک  (رحمہ اللہ )اس حدیث کی توضیح میں فرماتےہیں : ’’عزت حلال ہونے سے مراد ہے کہ اس پر سختی کی جائے گی اور اس کی سزا سے مراد ہے کہ اسے قید کردیا جائے گا‘‘۔

خلاصہ کلام:    مروجہ اسلامک بینکوں میں جو فی الوقت برائے نام مرابحہ کی صورت  ہے ، یہ حقیقتاً سود کے زمرے   میں شامل ہے ، اس لیے  بینک سے خریداری کا کوئی بھی معاہدہ کرنا، چاہے وہ گاڑی کے لیے ہو یا گھر یا کسی اور چیز کے لیے ہو جائز نہیں ہے، حرام ہے۔

ھذا ما عندی واللہ تعالی اعلم بالصواب

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔