سوال: کیا کرنسی نوٹوں پر زکوٰۃ ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ کرنسی نوٹوں کی حیثیت بھی اس طرح ہے جس طرح نبیﷺ کے دور میں درہم اور دینار کی تھی،سونا اور چاندی کے علاوہ کوئی بھی کرنسی ہو تو اس کو فقہی اصطلاح میں “ثمن عرفی ” کہا جاتا ہے، یعنی ایسا ثمن جس کو لوگوں کے تعامل نے کرنسی کا درجہ دے دیا ہو۔اگرچہ ان نوٹوں کی ذاتی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی، لیکن اصطلاحی طور پر اسے مخصوص مالیت کا آلہ تبادلہ قرار دے دیا گیا ہے ۔
اب چونکہ یہ ثابت شدہ ہے کہ یہ مال ہیں اور بطور ثمن استعمال ہوتے ہیں، لہذا جس شخص کے پاس نصاب کی مقدار کے برابر یہ رقم موجود ہو تو اس پر زکوٰۃ دی جائے گی، کیونکہ زکوٰۃ مال پر فرض ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
[خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً](سورۃ التوبۃ:103)
یعنی: ان کے مالوں سے صدقہ وصول کیجیے۔
نیز نبیﷺ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا تھا:
[ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ](صحیح بخاری:1395)
یعنی: اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے۔
البتہ ان کا کوئی نصاب شریعت کے اندر منصوص نہیں ہیں، لیکن چونکہ یہ ثمن ہیں، اور شریعت میں ثمن اصلی سونا اور چاندی ہی ہیں، لہذا ان میں کسی ایک چیز-جس کی قیمت کم ہو-کے نصاب کے برابر ان کرنسی نوٹوں کا نصاب مقرر کیا جائے گا۔ اس دور میں چونکہ چادی کی مالیت کم ہے، لہذا چاندی کو معیار بنا کر جس شخص کے پاس 595 گرام چاندی کے برابر یا اس سے زیادہ کرنسی موجود ہو تو وہ اس میں سے 2.5% رقم کو زکوٰۃ میں ادا کرے گا، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[ فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ, وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ](سنن ابی داؤد:1573)
یعنی: جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان پر پانچ درہم ( زکوٰۃ ) ہے ۔
نصاب میں چاندی کو معیار بنانے کی حکمت یہ ہے کہ اس میں فقراء کے لیے زیادہ آسانی اور ان کا زیادہ خیال ہے، تاکہ کم قیمت پرزیادہ لوگ صاحب نصاب ہوں اور فقراء اور مساکین کی مدد ہوسکے، اور ان کی ضروریات پوری ہوسکیں، نیز زیادہ احتاط اور اختلاف سے بچنے کا راستہ بھی یہی ہے کہ جس جگہ سونا اور چاندی میں سے جس کا ریٹ کم ہو اس کے مطباق زکوٰۃ نکالی جائے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی