بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا

قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا

سوال:کیا قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے ضروری ہیں؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا شرعاً ضروری نہیں، اگر کوئی  صاحبِ وسعت قربانی کے گوشت کے تین حصے کرے: ایک حصہ غریبوں اور مساکین کو صدقہ کرے، ایک حصہ رشتہ داروں اور دوست احباب کو ہدیہ دے یا ان کی دعوت کرے، اور ایک حصہ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے استعمال کے لیے رکھے، تو وہ کرسکتا ہے،البتہ اگر کوئی شخص سارا گوشت خود استعمال کر لے یا پورا کا پورا صدقہ کر دے تو یہ بھی شرعاً جائز ہے،  کیونکہ شرعاً قربانی کے گوشت کو تین حصہ کرنا واجب نہیں ہے۔

لہٰذا اگر کسی شخص کے حالات ایسے ہوں کہ وہ غریبوں میں گوشت تقسیم نہ کر سکے اور سارا گوشت اپنے اہلِ خانہ کے لیے رکھ لے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ قربانی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور عبادت کی نیت سے کی گئی ہو، محض گوشت حاصل کرنا مقصود نہ ہو۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔