بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
حالتِ احرام میں خوشبو والی دوا کا استعمال

حالتِ احرام میں خوشبو والی دوا کا استعمال

سوال: کیاحاجی مجبوری کی حالت میں خوشبو والی دوا استعمال کرسکتا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

حالتِ احرام میں خوشبو کا استعمال ممنوع ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے مُحرِم کے بارے میں فرمایا:

﴿ وَلَا تَمَسُّوهُ طِيبًا﴾(صحیح بخاری:1850)

یعنی:اور اس کو خوشبو نہ لگانا۔

اسی طرح نبی ﷺ نے محرم پر پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے  فرمایا:

﴿ وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ﴾(سنن نسائی:1306)

یعنی: اور نہ ایسا کپڑا جس میں زعفران لگا ہوا ہو۔

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ احرام کی حالت میں ادنیٰ درجے کی خوشبو سے بھی اجتناب ضروری ہے۔ البتہ اگر کسی شخص کو واقعی ضرورت یا مجبوری ہو، اور ایسی دوا استعمال کرنا ناگزیر ہو جس میں خوشبو شامل ہو، تو ضرورت کے تحت اس کی گنجائش ہے، لیکن اس صورت میں فدیہ لازم ہوگا، جیسا کہ  نبیﷺ نے دورانِ احرام محظورات کے ارتکاب پر فدیہ کا ذکر کیا:

﴿ تَجِدُ شَاةً فَقُلْتُ لَا فَقَالَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ﴾(صحیح بخاری:1816)

یعنی: ایک بکری ذبح کرو، اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتے تو تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔

لہذا اگر انتہائی مجبوری میں خوشبو والی دو ا استعمال کرنی  ہو اور اس  سے بچاؤ ممکن  نہ ہو تواس کا استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن اس پر فدیہ دینا لازمی ہوگا۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔