بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
کپڑے کے موزوں پر مسح کرنا

کپڑے کے موزوں پر مسح کرنا

سوال:کپڑے کے موزوں پر مسح کا حکم کیا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

لغت عرب کے اندر جو موزے چمڑے کے بنے ہوئے ہوں ان کو ’’خف‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ جو موزے کپڑے، اون یا نائلون وغیرہ سے بنائے جائیں ان کو ’’جورب‘‘ کہا جاتا ہے۔

’’جورب‘‘ پر مسح کرنا بھی اسی طرح جائز ہے جس طرح ’’خف ‘‘ پر مسح کرنا جائز ہے، نیز یہ نبیﷺ کی سنت  ہے، جو اس بات  کی واضح دلیل ہے کہ جورب پر بھی مسح کیا جاسکتا ہے،چنانچہ نبیﷺ کے بارے میں سیدنا مغیرہ بن شعبہرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

[ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ] یعنی:نبیﷺ نے وضوء کیا اور موزوں پر مسح کیا۔(سنن ابی داؤد:159)

نیز  یہ عمل  صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین  کی ایک بڑی تعداد سے ثابت ہے،امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب ، ابن مسعود ، براء بن عازب ، انس بن مالک ، ابوامامہ ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث ؓ نے بھی جرابوں پر مسح کیا ہے اور یہی بات سیدنا عمر بن خطاب اور ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے ۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔