بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
رشتہ توڑنے والے سے صلہ رحمی کا حکم

رشتہ توڑنے والے سے صلہ رحمی کا حکم

سوال: صلہ رحمی سے مراد کیا ہے؟جو رشتے دی توڑے کیا اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہیے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

صلہ رحمی سے مراد رشتہ داروں کے ساتھ اچھا تعلق قائم رکھنا، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، ان کی خیر خواہی، مدد اور خیر گیری کرنا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں صلہ رحمی کو بہت بڑی نیکی اور قطع رحمی کو سخت گناہ قرار دیا گیا ہے۔ صلہ رحمی صرف اس کا نام نہیں کہ جو آپ کے ساتھ اچھا ہو آپ بھی اس کے ساتھ اچھے رہیں، بلکہ حقیقی صلہ رحمی یہ ہے کہ انسان رشتہ داروں کی بے رخی اور زیادتی کے باوجود بھی تعلق جوڑے رکھے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: :

﴿ لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا﴾(صحیح بخاری:5991)

یعنی: کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جارہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے ۔لہٰذا اگر کوئی رشتہ دار قطع تعلق کرے، ناراضی رکھے یا بے رخی اختیار کرے، تب بھی اپنی استطاعت کے مطابق سلام، دعا، خیر خواہی، ملاقات اور اچھے اخلاق کے ذریعے تعلق قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا:

﴿بُلُّوا أَرْحَامَكُمْ وَلَوْ بِالسَّلَامِ﴾(مسند بزار)

یعنی: اپنے رشتوں کو تازہ رکھو، اگرچہ سلام کے ذریعے ہی ہو۔

البتہ اگر کسی رشتہ دار سے تعلق رکھنے میں دینی یا دنیاوی شدید نقصان، فتنہ یا ظلم کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں بقدرِ ضرورت احتیاط اختیار کی جاسکتی ہے، لیکن دل میں بغض اور قطع رحمی کی نیت نہیں ہونی چاہیے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔