سوال: سفر میں نماز کتنے دن تک قصر کرسکتے ہیں ؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ راجح قول کے مطابق مسافر جب تک حقیقتاً مسافر ہے، اس وقت تک قصر کرسکتا ہے، خواہ اس کی مدت چند دن ہو یا زیادہ، بشرطیکہ اس نے وہاں مستقل رہائش یا مکمل اقامت کی نیت نہ کی ہو، انسان کے سفر کا حکم دو چیزوں سے ختم ہوتا ہے:
- مستقل سکونت اختیار کرنے کی نیت۔
- یا مطلق اقامت کی نیت، یعنی انسان یہ ارادہ کرلے کہ اب یہیں رہنا ہے، اگرچہ مدت متعین نہ ہو۔
البتہ اگر کوئی شخص کسی عارضی کام، ملازمت، علاج، تجارت یا تعلیم وغیرہ کے لیے گیا ہو اور اس کی نیت یہ ہو کہ ضرورت پوری ہونے کے بعد واپس لوٹ آئے گا، تو وہ مسافر شمار ہوگا اور قصر کرسکتا ہے، چاہے قیام کی مدت لمبی ہی کیوں نہ ہوجائے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مختلف اسفار میں کئی کئی دن قیام فرمایا اور قصر کرتے رہے، جبکہ آپ ﷺ نے کسی معین مدت کو سفر ختم ہونے کی قطعی حد قرار نہیں دیا۔نیزاللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ﴾(النساء: 101)
یعنی: جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر نماز قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔
لہٰذا جب تک آدمی اپنے وطن سے باہر عارضی طور پر ہو اور واپسی کا ارادہ رکھتا ہو، وہ شرعاً مسافر ہے اور قصر کرسکتا ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ کو مستقل وطن بنالے یا غیر معینہ مستقل اقامت کی نیت کرلے تو پھر قصر ختم ہوجائے گی۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی