سوال:خواتین کا بالوں میں جوڑا باندھنے کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
واضح رہے کہ خواتین کا بالوں کو جمع کرکے ان کا جوڑا بنانے کی دو طریقے ہیں:
۱۔ بالوں کو جمع کرکے سر کے عین اوپر یا درمیان میں باندھا جائے۔
۲۔ بالوں کو جمع کرکے گدی پر باندھا جائے۔
پہلی صورت کے متعلق نبیﷺ کے فرمان میں شدید وعید نازل ہوئی ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا(وقال فیہ) نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا﴾(صحیح مسلم:5582)
یعنی: دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا،(ان میں سے ایک قسم)وہ عورتیں جو لباس پہنتی ہیں مگر بے لباس ہیں (یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں)، سیدھی راہ سے بہکانے والی، خود بہکنے والی اور ان کے سر بختی (اونٹ کی ایک قسم ہے) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آ رہی ہو گی۔
البتہ جہاں تک دوسری صورت کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں مختلف صورتیں ہیں جن کا جواب آسانی کے لیے نکات کی صورت میں عرض کیا جاتا ہے:
۱۔خاتون گھر میں ہو اور بالوں کو جمع کرکے گدی پر باندھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۲۔ خاتون گدی پرجوڑا بنا کر نماز پڑھ لے تو راجح قول کے مطابق اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ بالوں کا کوئی حصہ نظر نہ آئے۔
۳۔خاتون گدی پر جوڑا بنائے اور اس کا جوڑا عبائے سے واضح ہوتا ہو تو یہ تبرج کی وجہ سے منع ہے، کیونکہ اس میں خاتون کا سر نمایاں ہوتا ہےاور یہ غیر مرد کو اپنی طرف مائل کرنے کا ایک سبب ہے جو ممنوع ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ﴾(سورۃ الاحزاب:33)
یعنی: قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو۔
خلاصہ کلام: سر کے عین درمیان میں جوڑا بنانا مطلقاً منع ہے،گدی پر گھر کے اندر جوڑا بنانے کا جواز ہےنیز اس صورت میں نماز بھی درست ہے، لیکن اس حالت میں گھر سے باہر نکلنا کہ جوڑا واضح ہوتا ہو، جائز نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی