سوال: دوران طواف اپنا چہرہ کعبے کی طرف نظریں ہونا ضروری ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
دورانِ طواف چہرہ یا نظریں مسلسل کعبہ کی طرف رکھنا شرعاً ضروری نہیں ہے۔ طواف کا اصل مقصود بیت اللہ کے گرد مخصوص طریقے سے چکر لگانا ہے، نہ کہ ہر وقت کعبہ کی طرف دیکھتے رہنا،نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے طواف کے دوران مسلسل کعبہ کی طرف چہرہ رکھنا منقول نہیں، بلکہ آپ ﷺ عام چلنے کے انداز میں بیت اللہ کے گرد طواف فرماتے تھے، اگر یہ کوئی لازم یا مسنون عمل ہوتا تو ضرور اس کی وضاحت کی جاتی۔
لہٰذا اگر کوئی شخص طواف کے دوران کعبہ کی طرف دیکھ لے اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے گھر کی عظمت و تعظیم پیدا ہو تو یہ اچھی بات ہے، لیکن مسلسل کعبہ کی طرف دیکھنا لازم نہیں، اسی طرح اگر کوئی عام حالت میں طواف کرتا رہے اور سامنے یا راستے کی طرف دیکھتا رہے تو اس کے طواف میں کوئی حرج نہیں۔
البتہ دورانِ طواف خشوع، ادب، ذکر و دعا اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کا استحضار رکھنا زیادہ اہم ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی