بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
چوتھے دن قربانی کا حکم

چوتھے دن قربانی کا حکم

سوال:  کیا  قربانی کے چار دن ہیں؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

راجح قول کے مطابق قربانی ایامِ تشریق کے آخری دن تک کی جاسکتی ہے، یعنی 10 ذوالحجہ سے لے کر 13 ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک قربانی کرنا جائز ہے۔

اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ہے:

﴿كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ﴾(مسند أحمد: 16797)

یعنی: ایامِ تشریق کے تمام دن ذبح کے دن ہیں۔

البتہ افضل اور سنت طریقہ یہی ہے کہ قربانی پہلے دن، یعنی 10 ذوالحجہ کو نمازِ عید کے بعد کی جائے، کیونکہ یہی نبی کریم ﷺ کا معمول تھا۔ مزید یہ کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

﴿أَعْظَمُ الأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ﴾(سنن أبي داود: 1765)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر (10 ذوالحجہ) ہے، پھر اس کے بعد یوم القر (11 ذوالحجہ) ہے۔

لہٰذا 13 ذوالحجہ کی مغرب تک  قربانی کرنا جائز ہے، البتہ چوتھے دن قربانی کو خاص سنت یا ضروری سمجھنا درست نہیں۔ اگر کوئی شخص کسی عذر یا سہولت کی وجہ سے آخری دن قربانی کرے تو اس کی قربانی صحیح ادا ہوجائے گی۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔