سوال: قربانی کے جانور کا خون اگر کپڑوں پر لگ جائے تو کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ قربانی کے جانور کا خون دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جس کو قرآن نے دمِ مسفوح کہا ہے ، جو کہ ناپاک ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا﴾(سورۃ الانعام:135)
یعنی: آپ کہہ دیجئے جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو۔
لہذا اگر یہ خون کپڑوں یا جسم کو لگ جائے تو نماز کی ادائیگی سے قبل اس کو دھونا واجب ہے۔
دوسری قسم کا خون وہ ہے جو جانور کی روح نکلنے کے بعد اس کی روح یا گوشت میں باقی رہ جائے تو اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ یہ پاک ہے اور اگر یہ کپڑوں یا جسم کو لگ جائے تو اس میں نماز پڑھ جاسکتی ہے، کیونکہ اس کا شمار دمِ مسفوح میں نہیں ہوتا ۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی