سوال: کیا قربانی کی آلائیشیں راستے میں پھینکنا درست ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ راستے میں تکلیف دہ چیز پھینکنا اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا کبیرہ گناہ ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا﴾(سورۃ الاحزاب:58)
یعنی: اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف دیتے ہیں، بغیر کسی گناہ کے جو انھوں نے کمایا ہو تو یقیناً انھوں نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا۔
اسی طرح راستوں کو پاک صاف رکھنا ایمان اور نیکی کے کاموں میں شمار کیا گیا ہے، چنانچہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ – أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ – شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ﴾(صحیح مسلم:35)
یعنی: ایمان کے ستر سے اوپر (یا ساٹھ سے اوپر) شعبے (اجزاء) ہیں۔ سب سے افضل لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار ہے اور سب سے چھوٹا کسی اذیت (دینے والی چیز) کو راستے سے ہٹانا ہے۔
نیز قربانی شعائر اسلام میں سے ہے، اس لیے اس سے متعلق ہر چیز کے ساتھ ادب اور صفائی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ قربانی کی آلائشیں، خون، ہڈیاں اور دیگر باقیات راستوں، گلیوں یا عوامی مقامات پر پھینکنا شرعاً درست نہیں، کیونکہ اس سے لوگوں کو تکلیف، بدبو اور گندگی کا سامنا ہوتا ہے، لہٰذا قربانی کی باقیات کو مناسب جگہ دفن کرنا یا بلدیاتی صفائی کے نظام کے مطابق ٹھکانے لگانا چاہیے، تاکہ لوگوں کو اذیت نہ ہو اور ماحول بھی آلودہ نہ ہو۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی