بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
ایک گھر کی طرف سے ایک قربانی

ایک گھر کی طرف سے ایک قربانی

سوال: کیا ایک گھر کی طرف سے ایک قربانی کافی ہوتی ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ  گھر کا سربراہ اگر  قربانی کرلے تو وہ  تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہوجاتی ہے، جیسا کہ سیدنا ابوایوب انصاری کی روایت ہے:

﴿ انَ الرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ ﴾(سنن ترمذی:1505)

یعنی: ایک آدمی اپنی اور اپنے گھروالوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتاتھا، وہ لوگ خودکھاتے تھے اور دوسروں کو کھلاتے تھے۔

لہٰذا ایک قربانی پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوجاتی ہے، بشرطیکہ گھر ایک ہو،رہنے والے آپس میں قریبی رشتہ دار ہوں، اور گھر کا خرچہ و نان نفقہ ایک ہی شخص کے ذمہ ہو۔

البتہ اگر بھائی الگ الگ گھرانوں کی صورت میں رہتے ہوں، ان کے اخراجات جدا ہوں اور ہر ایک کی مستقل فیملی ہو، تو پھر ہر صاحبِ استطاعت پر الگ قربانی مشروع ہوگی۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔