سوال: نبیﷺ کی طرف سے قربانی کا کرنا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
نبیﷺ کی طرف سے قربانی کا تعلق ہے تو یہ اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ نبیﷺ تک اس قربانی کا ثواب پہنچایا جائے، اس سلسلے میں یہ بات معلوم ہونی ضروری ہے کہ نبىﷺ كو ثواب ہديہ كرنے كى نہ تو كوئى ضرورت ہے اور نہ ہى كوئى سبب كيونكہ نبىﷺ كو اپنى سارى امت كے اعمال كا اسى طرح اجر ملتا ہے جس طرح كسى عمل كرنے والے كو، اور ان كے ثواب ميں كوئى كمى نہيں ہوتی، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا](صحیح مسلم:6804)
یعنی: جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔
لہذا نبیﷺ تک ثواب پہنچانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کیونکہ دنیا میں جو بھی نیکیاں ہورہی ہیں وہ انہی تعلیمات کی نتیجے میں ہورہی ہیں جو آپ سکھا کر گئے ہیں۔نیز صحابہ کرام جو نبیﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے ان میں سے بھی کسی سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کی طرف سے قربانی کی ہو، لہذا یہ امر بدعت اور ایسا کرنے والے دینِ اسلام میں مجرم ہیں، لہذا ایسے لوگوں کو نصیحت کی جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ اس معاملے کی خطرناکی سے آگاہ کیا جائے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی