سوال: “میرا گھر میرا آشیانہ”اسکیم کے تحت قرضہ لینا شرعی طور پر کیساہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
صورتِ مسئولہ میں جواب سے قبل یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مذکورہ اسکیم حکومت کی جانب سے دو طریقوں پر رائج ہے:
- ایک طریقہ کمرشل بینکوں کا ہے، جس میں صارف کو قرض فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر معاہدہ دس سال یا اس سے کم مدت کے لیے ہو تو بینک اصل رقم پر 5% سود وصول کرتا ہے، جبکہ اگر مدت دس سال سے زیادہ ہو تو KIBOR+3% کے حساب سے سود لیا جاتا ہے۔
- دوسرا طریقہ مروجہ اسلامی بینکوں کا ہے، جہاں اس معاہدے کو “مشارکہ متناقصہ” کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں بینک اپنی آمدنی کو “کرایہ” یا “منافع” قرار دیتا ہے۔ چنانچہ اگر معاہدہ دس سال یا اس سے کم مدت کے لیے ہو تو 5% کے حساب سے کرایہ وصول کیا جاتا ہے، اور اگر مدت دس سال سے زیادہ ہو تو KIBOR+3% کے مطابق رقم وصول کی جاتی ہے۔
پہلا طریقہ: کمرشل بینکوں کا قرض پر سود دینے کا معاملہ تو واضح ہے کہ یہ سودی قرضہ کا لین دین ہے جو کہ حرام ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ¨ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾(سورۃ البقرۃ:286/287)
یعنی: اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔
لہذا اس طریقہ پر اس سکیم کا حصہ بننا سودی قرضہ کا لین دین کرنا ہے جو کہ واضح طور پر حرام اور اللہ اور اس کے رسولﷺ سے اعلانِ جنگ ہے۔
دوسرا طریقہ: اسلامی بینک اس معاہدے کو اپنے طریقہ تمویل” مشارکہ متناقصہ” میں شامل کرتے ہیں اور اس کو شرعی طریقہ باور کراتے ہیں، لیکن درحقیقت مروجہ اسلامی بینک کا یہ طریقہ تمویل میں کئی شرعی اصولی خلاف ورزیاں نظر آتی ہیں، جن میں سے اہم درج ذیل ہیں:
۱۔ اسلامی بینکوں کا اپنے سرمایہ کو محفوظ کرنا کہ صارف بینک کا حصہ اس سے لازمی خریدے گا اور اس کو قانوناً بھی لازمی بنانا اس کو بالکل سودی معاہدے کے مشابہ بناتا ہے۔
۲۔بینک کا صارف سے اپنا حصہ لازمی خریدنے کا وعدہ کرنا( جو کہ درحقیقت بیع اور معاہدے کی صورت ہے ) بینک کا ایسی چیز بیچنے کے مترادف ہے جو اس نے ابھی خریدی ہی نہیں ہوتی، جو کہ حدیث نبویﷺ کی روشنی میں حرام ہے، جیسا کہ نبیﷺکافرمان ہے:
﴿لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ﴾(سنن ابی داؤد:3503)
یعنی: جو چیز تمہارے پاس نہیں اسکو فروخت نہ کرو۔
۳۔ مشارکہ کا معاہدہ کرنا اور صارف کا بینک کے حصے خریدنے کا معاہدہ کرنا دراصل یہ بات دو معاہدوںکو ایک ہی معاہدے میں جمع کرنا ہے، جس سے نبیﷺ نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ حدیث نبویﷺ ہے:
﴿نَهَى رَسُولُ اللَّهِﷺ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ﴾(سنن ترمذی:1231)
یعنی: رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں دوبیع کرنے سے منع فرمایا۔
لہذا اسلامی بینک کے ذریعے بھی اس سکیم سے فائدہ اٹھانا کئی وجوہات کی بنیاد پر جائز نہیں ہے، مزید تفصیل کے لیے اس مضمون کا مطالعہ کریں:(مروجہ اسلامی بینکوں میں رائج طریقہ تمویل: اجارہ، مشارکہ متناقصہ، مرابحہ)
خلاصہ کلام:کمرشل بینکوں سے سودی قرضہ اور مروجہ اسلامی بینکوں سے مشارکہ متناقصہ کی بنیاد پر اس سکیم سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی