سوال: کیا کان میں موجود چھید کی وجہ سے جانور کی قربانی جائز ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ نبیﷺ نے چند ایسے عیوبات قربانی کے متعلق بیان کیے ہیں ، جن کی موجودگی میں اس جانور کی قربانی جائز نہیں ہوتی، چنانچہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[ أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الْأَضَاحِيِّ:الْعَوْرَاءُ بَيِّنٌ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ بَيِّنٌ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ بَيِّنٌ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَ](سنن ابی داؤد:2808)
یعنی: چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں ہیں ‘ کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو ‘ بیمار جس کی بیماری واضح ہو ‘ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور انتہائی کمزور کہ اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو ۔
اس حدیث کی روشنی میں معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور میں اصل اعتبار ایسے بڑے اور نمایاں عیوب کا ہے جو جانور کی صحت اور خوبصورتی پر واضح اثر ڈالیں۔جہاں تک کان میں سوراخ یا چھید ہونے کا تعلق ہے، تو یہ نہ حدیث میں مذکور عیوب میں شامل ہے اور نہ ہی ایسا عیب ہے جو جانور کو بیمار یا ناقص بناتا ہو۔ عموماً یہ نشان شناخت یا عادت کے طور پر ہوتا ہے، اس لیے اس کی وجہ سے قربانی فاسد نہیں ہوتی۔لہٰذا اگر جانور صحت مند ہو اور اس میں کوئی ایسا بڑا عیب نہ ہو جو شریعت نے بیان کیا ہے، تو صرف کان میں چھید ہونے کی وجہ سے اس کی قربانی کرنا جائز ہے۔
ٍالبتہ بہتر اور افضل یہی ہے کہ حتی الامکان عیب سے زیادہ پاک اور خوبصورت جانور کا انتخاب کیا جائے، کیونکہ قربانی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جانے والی عظیم عبادت ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔