سوال: کیا سینگ ٹوٹے ہوئے جانور کی قربانی جائز ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ نبیﷺ نے چند ایسے عیوب قربانی کے متعلق بیان کیے ہیں ، جن کی موجودگی میں اس جانور کی قربانی جائز نہیں ہوتی، چنانچہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[ أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الْأَضَاحِيِّ:الْعَوْرَاءُ بَيِّنٌ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ بَيِّنٌ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ بَيِّنٌ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَ](سنن ابی داؤد:2808)
یعنی: چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں ہیں ‘ کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو ‘ بیمار جس کی بیماری واضح ہو ‘ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور انتہائی کمزور کہ اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو ۔
اس حدیث کی روشنی میں قربانی کا جانور چار قسم کے عیب سے پاک ہونا ضروری ہے:
۱۔ کانا پن(جس کی ایک آنکھ نہ ہو)۔
۲۔ لنگڑا پن ۔
۳۔ واضح بیماری۔
۴۔انتہائی لاغر اور کمزور۔
لہذا اگر کسی جانور کا سینگ آدھا یا اس سے کم ٹوٹ گیا ہو ایسی صورت میں اس کی قربانی جائز ہے ، کیونکہ نبیﷺ نے اس چیز کو عیب شمار نہیں کیا ہے، البتہ اگر سینگ آدھ سے زائد ٹوٹ جائے اور واضح عیب کی صورت بن جائے تو ایسے جانور کی قربانی سے بچنا چاہیے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی