بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
شلیمہ سے ولیمہ کی سنت کا ادا ہونا

شلیمہ سے ولیمہ کی سنت کا ادا ہونا

سوال: معاشرے میں رائج “شلیمہ” کرنا درست ہے؟ نیز ایسی صورت میں کیا ولیمہ کی سنت ادا ہوجاتی ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ ولیمہ ایک شرعی اصطلاح اور سنتِ نبوی ﷺ ہے، جس کا تعلق خاص طور پر نکاح کے بعد لڑکے (شوہر) کی طرف سے دی جانے والی دعوت سے ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

﴿ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ﴾(صحیح بخاری:2049)

یعنی:ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔
مزید نبیﷺ کا فرمان ہے:

﴿ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا﴾(صحیح بخاری:5173)

یعنی: جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ پر بلایا جائے تو اسے آنا چاہئے ۔

ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ ولیمہ ایک شرعی اصطلاح اور دعوت ہے ، لہذا اس میں ردو بدل کرنا، تبدیلی کرکے اس کے الفاظ کو بدلنا بھی درست نہیں ہے، نیز ولیمہ  اصلاً شوہر کی طرف سے نکاح کی خوشی میں دی جانے والی دعوت ہے، یہ نہ تو مشترکہ ذمہ داری ہے اور نہ ہی اس میں لڑکی والوں کو شریک کرنا سنت سے ثابت ہے۔

لہذا “شلیمہ ” شرعی ولیمہ نہیں کہلائے گا اور نہ ہی  اس سے ولیمہ کی سنت ادا نہیں ہوگی، نیز  اس میں لڑکی والوں پر دعوت کا بوجھ ڈالنا بھی خلافِ سنت ہے، کیونکہ شریعت نے ان پر ایسی کوئی ذمہ داری نہیں رکھی۔

خلاصہ:ولیمہ ایک مستقل سنت ہے جو صرف لڑکے کی طرف سے ادا کی جاتی ہے۔ مشترکہ کھانا (شلیمہ) نہ ولیمہ ہے اور نہ اس سے سنت ادا ہوتی ہے، بلکہ یہ ایک غیر شرعی رسم ہے جس سے اجتناب بہتر ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔