سوال:کیا خاتون کا بغیر محرم سفر کرنا جائز ہے؟ نیز سفر کی کیا حد ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
شریعت نے عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے محرم کے ہمراہ سفر کرے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے:
“لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مسيرة يوم وليلة إلا مع ذي محرم”۔
کسی مؤمنہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک دن اور رات کی مسافت بغیر محرم کے طے کرے (بخاری ۱۰۸۸)۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے لیے محرم کے بغیر سفر پر نکلنا حرام ہے، اور عورت کا محرم اس کا خاوند ہے یا ہر وہ فرد جس سے اس عورت کا نکاح ابدی طور پر حرام ہو، جیسے: چچا، بھتیجا، بھانجاوغیرہ ۔
لہذا کوئی عورت کسی عورت کی محرم نہیں بن سکتی اور نہ ہی کسی عورت کے ساتھ سفر کرنے پر اس پر سے محرم کی شرط ساقط ہوگی۔
نیز شرعی سفر سے مراد وہ سفر ہے جو شہر سے باہر کا ہو، البتہ شہر کے اندر بھی سفر کے لیے ولی(شوہر/والد) کی اجازت کی ضرورت ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی