سوال: کیا استعمال کی چیزوں پر زکوٰۃ ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ شریعت میں وہ اشیاء جو انسان کے ذاتی استعمال میں ہوں، انہیں اموالِ قنیہ کہا جاتا ہے، جیسے: رہائشی گھر، استعمال کی گاڑی، کپڑے، گھریلو سامان وغیرہ۔ ان چیزوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، خواہ وہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ صرف ان اموال پر فرض ہوتی ہے جن میں شرعاً اس کا سبب (نصاب اور حولانِ حول) پایا جائے اور جن کے بارے میں شریعت نے زکوٰۃ کا حق مقرر کیا ہو۔ جبکہ ذاتی استعمال کی اشیاء میں ایسا کوئی حق مقرر نہیں کیا گیا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿ وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ﴾(سورۃ المعارج:24)
یعنی: اور جن کے مالوں میں مقررہ حصہ ہے۔
اس آیت کا ایک مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کے اموال میں معلوم مقدار میں حق ہے، یعنی وہ مقدار شرعی دلائل میں موجود ہے، لیکن چونکہ استعمال کی چیزوں میں عمومی طور پر زکوٰۃ کا حکم نہیں ہے لہذا ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
خلاصہ:ذاتی استعمال کی اشیاء (اموالِ قنیہ) پر زکوٰۃ نہیں ہے، بلکہ زکوٰۃ صرف مخصوص اموال پر ان کی شرائط کے ساتھ واجب ہوتی ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی