بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
اے آئی کو تصویر دے کر ویڈیو بنوانا

اے آئی کو تصویر دے کر ویڈیو بنوانا

سوال: کیا اے آئی کو اپنی تصویر دے کر اس کو ویڈیو میں بدلوانا بھی ناجائز ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں ذی روح (جاندار) کی تصویر سازی کے بارے میں سخت وعید آئی ہے، اس لیے اصل حکم احتیاط اور اجتناب کا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تصویریں بنانے والوں کے بارے میں فرمایا:

﴿ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ الَّذِينَ يُصَوِّرُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ ﴾(صحیح بخاری:5950)

یعنی: اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا۔

لہٰذا اصولی طور پر جاندار کی تصاویر بنانا یا بنوانا محلِ ممانعت ہے۔ موجودہ دور میں اے آئی کے ذریعے تصویر کو ویڈیو میں تبدیل کرنا بھی اسی دائرے میں آتا ہے، کیونکہ اس میں اصل تصویر کو بنیاد بنا کر اس کی مزید تخلیق اور حرکت (animation) پیدا کی جاتی ہے۔اس بنا پر اے آئی کو اپنی تصویر دینا اور اس سے ویڈیو بنوانا بھی درست نہیں، خصوصاً جب یہ محض تفریح، نمائش یا غیر ضروری مقاصد کے لیے ہو۔البتہ غیر جاندار اشیاء یا جائز مقاصد کے لیے ڈیزائننگ میں گنجائش ہے، لیکن ذی روح تصاویر سے حتی الامکان اجتناب ہی احتیاط کا تقاضا ہے۔

خلاصہ:اے آئی کے ذریعے اپنی تصویر کو ویڈیو میں تبدیل کروانا بھی تصویر سازی کے حکم میں داخل ہو کر ناجائز ہے، لہٰذا اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔